ہم چھ بھائی ہیں ، والد کو " نیول کالونی " میں پلاٹ ا لاٹ ہوا تھا ، ان کی زندگی میں بڑے بھائی نے پریشر ڈال کر اپنے نام لکھوا لیا ، بھائی نے گھر پر تیس ہزار خرچ کیے تھے ، اس کے بدلے میں یہ پلاٹ اپنے نام کروا لیا کہ میرے پیسے اس گھر پر خرچ ہوئے ، والدین کے پاس پیسے نہیں تھے کہ بھائی کو انکے خرچ شدہ رقم واپس کرتے ،سو ان کے کہنے پر پلاٹ انہیں لکھ دیا ، جبکہ بھائی کی اپنی فیملی بھی والد کے ساتھ رہ رہی تھی اور والد کی پینشن بھی اسی گھر پر خرچ ہو رہی تھی ، پوچھنا یہ تھا کہ کیابھائی نے صحیح کیا ؟ یا سب بھائیوں کا حق مارنے کے مرتکب ٹھہرے ہیں ؟ پلیز فتوی دیجیے ، رہنمائی چاہئیے ، ہم انہیں بنوریہ کا فتوی اس سلسلے میں لینے کو کہتے ہیں تو وہ نہیں مانتے ، آ پ ہماری رہنمائی کر دیجیے ۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل کے والد کو نیول کالونی میں جو پلاٹ الاٹ ہوا تھا ، یہ سائل کے والد کی ملکیت تھا ، اس کے بعد اگر سائل کے والدنے بڑے بیٹے کی طرف سے تیس ہزار روپے کے تقاضے کے اصرار پر مذکور پلاٹ ان پیسوں کے عوض بڑے بیٹے کو لکھ کر دے دیا ہو تو ایسی صورت میں یہ پلاٹ اب بڑے بیٹے کی ملکیت ہے ، لہذا اس میں دیگر بھائیوں کا حصہ داری کا دعویٰ کرنا شرعاً درست نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ،لیکن اگر سائل کے والد نے مذکور پلاٹ ان پیسوں کو عوض بڑے بیٹے کو نہ دیا ہو ،بلکہ فقط کاغذات میں اس کے نام کیا ہو تو ایسی صورت میں فقط نام کر دینے سے سائل کا بڑا بھائی مذکور پلاٹ کا شرعاً مالک نہیں بنا ،بلکہ حسبِ سابق سائل کے والد کی ملکیت میں رہ کر انتقال کی صورت میں تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ۔
کما فی الدر المختار : ( و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،اھ(5691)۔
و فی الہندیہ : و منها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض اھ(4/374) ۔
و فی تنقیح الحامدیۃ : ( سئل) في رجل بنى بماله لنفسه قصرا في دار أبيه بإذنه ثم مات أبوه عنه و عن و رثة غيره فهل يكون القصر لبانيه و يكون كالمستعير؟
(الجواب) : نعم كما صرح بذلك في حاشية الأشباه من الوقف عند قوله كل من بنى في أرض غيره بأمره فهو لمالكها إلخ(2/81) ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2