محترم جناب علماءِ دین ایک مسئلہ درپیش ہے ،میری بھانجی بی بی کلثوم جو کہ کینسر کی مریض تھی، اپنی وفات سے 3 ماہ قبل اپنے طلائی زیورات جس کی مالیت تقریباً 5 لاکھ تھی،جو کہ مرحومہ نے اپنے ذاتی پیسوں سے خریدے تھے، وہ زیورات اُس نے میرے پاس (ماموں )" امانتاً اوروصیتاً"رکھوائے تھے، اُسکی وصیت تھی کہ میرے مرنے کے بعد یہ زیوارت میری بیٹی (نور الحرم) جب عاقل و بالغ ہو جائے تو اسے والدہ کی طرف سے گفٹ کر دینا، ابھی اُس لڑکی کی عمر تقریباً چار سال ہے ، مرحومہ نے کہا تھا کہ ان زیورات پر میرے کسی بھی رشتہ دار یا میرے شوہر کا کوئی حق نہیں ہے،لیکن اب مرحومہ کا شوہر ، مجھ سے زبردستی اور اوچھے ہتھکنڈوں سے ہتھیا نہ چاہتا ہے، اور مجھے اور میرے گھر والوں کو پریشان کر رہا ہے ، میری درخواست ہے کہ مجھے قرآن وسنت کی روشنی اور اسلام کی رو سے بتائیں کہ ان زیورات پر اُسکے شوہر ،کا کوئی حق ہے؟ مجھے اس مسئلہ کا فتوی در پیش ہے،تاکہ ہمیں کوئی بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہو سکے،مرحومہ کے ور ثاء میں والدین ، شوہر اور ایک بیٹی موجود ہے۔
مسئولہ صورت میں سائل کی بھانجی بی بی کلثوم مرحومہ نے اپنی بیٹی کو مکمل زیورات دینے کی جو وصیت کی ہےتو بیٹی چونکہ اپنی والدہ کی شرعی وارث ہے،اور وارث کے حق میں وصیت شرعاً معتبر نہیں،بلکہ دیگر ورثاء کی رضامندی پر موقوف ہوتی ہے،لہٰذا مرحومہ کے ورثاء(شوہر اور والدین)کے ذمہ مذکور وصیت پر عمل کرتے ہوئے زیورات مرحومہ کی بیٹی کو دینا شرعاً لازم نہیں،بلکہ دیگر ترکے کی طرح مذکورزیورات بھی مرحومہ کے تمام ورثاء (شوہر ، بیٹی اور والدین) کے درمیان حسب حصص شرعی تقسیم ہوں گے،البتہ اگر مرحومہ کے تمام ورثاء(شوہر اور والدین)مذکور زیورات مرحومہ کی بیٹی کو دینے پر رضامند ہوں،یا مرحومہ کے شوہر اور والدین میں سے کوئی اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے اپنے حصے کے بقدر مذکور زیورات میں سے مرحومہ کی بیٹی کو دینے پر راضی ہوں تو شرعاً اسمیں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
کما فی مشكاة المصابيح: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ» مُنْقَطِعٌ هَذَا لَفْظُ الْمَصَابِيحِ. وَفِي رِوَايَةِ الدَّارَقُطْنِيِّ: قَالَ: «لَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاء الْوَرَثَة»(2/925)
و فی سنن الترمذي: عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ عَلَى نَاقَتِهِ وَأَنَا تَحْتَ جِرَانِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَإِنَّ لُعَابَهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ،الحدیث(4/434)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2