کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرےوالد صاحب کی جگہ تھی جس پر میں نے مکان تعمیر کیا ، جگہ والد صاحب کی تھی لیکن میرے تعمیرات کرنے پر کسی بہن یا بھائی نے اعتراض نہیں کیا تھا ، ہم کل تین بھائی اور دو بہنیں ہیں، ان میں سے ایک بھائی کا انتقال ہو گیا ہے، بھائی کے انتقال کے بعد انکی بیوہ نے دوسری شادی کر لی تھی ، مرحوم بھائی کی دو بیٹیاں ہیں , ایک شادی شدہ اور ایک کنواری ، مسئلہ دریافت طلب یہ ہے کہ میں نے ان تمام تعمیرات پر جو رقم خرچ کی تھی ، کیا وہ رقم وراثت کی تقسیم سے پہلے مجھے ملے گی یا نہیں؟ میرے مرحوم بھائی کی بیوہ نے دوسری شادی کرلی تھی ، اسکو بھائی کے ترکہ میں سے حصہ ملے گا یا نہیں؟ بھائی کی دو بیٹیاں ہیں ، ایک شادی شدہ اور ایک کنواری ہے، آیا بھائی کے ترکہ میں سے اُنکو حصہ ملے گا ؟ اگر ملے گا تو کتنا حصہ ملے گا ؟ مکان کی موجودہ قیمت اس وقت چالیس لاکھ روپے ہے، اس میں ہم دو بھائیوں اور دو بہنوں اور مرحوم بھائی کی دونوں بیٹیوں کو کتنا حصہ ملے گا ؟ برائے مہربانی قرآ ن وسنت کی روشنی میں مفصل جواب مرحمت فرمائیں! شکریہ
سوال میں ذکر کردہ وضاحتی نوٹ کے مطابق اگر سائل نے مذکور تعمیر کرکے قرض کی یا ترکہ سے مذکور رقم منہا کرنے کی صراحت نہ کی ہو تو یہ تعمیر اس کی طرف سے تبرع شمار ہوگی، لہذا اب ترکہ سے مذکور رقم منہا کرنا یا بہن بھائیوں سے مذکور رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ دیگر بہن بھائی سائل کی خدمات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے حصوں میں سے کچھ دے دیں تو اس کا انہیں اختیار ہے۔
اسکے بعد واضح ہو کہ سائل کے والدین مرحومین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اُنکے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے اس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگرمرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل پانچ سو چھہتر(576) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحومین کےہر ایک بیٹے کو ایک سو چون(154) حصے، ہر ایک بیٹی کو ستتر(77) حصے ، بہو کو اٹھارہ (18)حصے، جبکہ ہر ایک پوتی کو اڑتالیس (48) حصے دیے جائیں -
فی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام : إذا عمر أحد الشريكين الملك المشترك ففي ذلك احتمالات أربعة : (الی قولہ ) الاحتمال الثاني - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك للشركة بدون إذن الشريك كان متبرعا ۔اھ (3/314)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2