السلام علیکم ! ہنڈی اور حوالے کا کام جائز ہے ؟اگر کسی سے دوسرے ملک میں پیسے لے کر اور اپنا کمیشن کاٹ کر ،پاکستان میں پیسے دینا حلال ہے یا نہیں؟ اور بہت سے لوگوں کے پاس رشوت کا پیسہ ہوتا ہے اس پیسے سے کام کرنا جائز ہے ؟
کسی دوسرے ملک سے پیسے بھیجنے کے لۓ اگر ہنڈی کا طریقہ کار استعمال کرکے اس پر کمیشن وصول کیاجائے تو یہ مروجہ ہنڈی کا کاروبار شرعاً ممنوع ہے ، اولاً تو اس وجہ سے کہ اس میں معاملۂ قرض ، مشروط بالشرط ہوتا ہے اور یہ جائز نہیں ، اور ثانیاً اس بناء پر کہ یہ قانوناً منع ہے اور حکومت کے ہر اس قانون پر عمل لازم ہے جو کسی حکمِ شرعی کے خلاف نہ ہو ، لہٰذا اس طریقہ پر کاروبار کرنے اور اس پر رقم لیکر اپنے استعمال میں لانے سے احتراز لازم ہے۔
جبکہ رشوت کا پیسہ لینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اس لۓ اس رقم کے ذریعہ کاروبار کرنے کے بجائے اصل مالکان کی طرف واپس کرنا اور اگر مالکان کا علم نہ ہو ، تو ان کی طرف سے بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم اور ضروری ہے۔
فی الدر المختار :( و كرهت السفتجة) بضم السين و تفتح و فتح التاء ، و هي إقراض لسقوط خطر الطريق الخ
و فی رد المحتار : و في الفتاوى الصغرى و غيرها : إن كان السفتج مشروطا في القرض فهو حرام ، و القرض بهذا الشرط فاسد و إلا جاز. (5/ 350)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0