السلام علیکم میں نے ایک جگہ پیسہ لگایا تھا تاکہ ہر ماہ منافع کما سکوں۔ جب میری بہن کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے بھی مجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی رقم اس میں لگا دی۔ لیکن وہ شخص میرے اور میری بہن کے سارے پیسے لے کر بھاگ گیا۔ لہذا میں نے اپنے پیسے واپس لینے کے لیے عدالت اور تھانے میں بہت کوشش کی لیکن مجھے رقم واپس نہیں ملی۔ جو میری بہن نے پیسے لگائےتھے اس نے زبر دستی مجھ سے پیسے مانگے اس لئے مجھے اسے واپس کرنے کے لیے دوسرے شخص سے پیسے لینا پڑے ادھار۔ حالانکہ میں نے اسے اس میں پیسہ لگانے پر مجبور نہیں کیا تھا۔ تو مجھے بتائیں کہ میری بہن نے مجھ سے جو رقم لی وہ جائز لی؟ جبکہ میرے بھی پیسے نہیں ملے۔ جہاں سرمایہ کاری کی تھی۔
مسئولہ صورت میں سائل کی بہن نے مذکور کاروبار میں پیسے اگر خود لگائے ہوں، اگرچہ سائل کی ترغیب پر ہی کیوں نہ ہوں، تو ایسی صورت میں سائل کی بہن نقصان یا فراڈ کی صورت میں بھی خود ہی ذمہ دار ہو گی، نقصان کی صورت میں اس کا سائل کو ذمہ دار قرار دیکر اس سے اپنا رقم لینا شرعاً درست نہیں۔ تاہم اگر معاملے کی نوعیت مختلف ہو تو اس کی مکمل وضاحت لکھ کر سوال دوبارہ ای میل کر دیں، اس پر غور و فکر کے بعد ان شاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
كما في المستدرك على الصحيحين للحاكم: 2176 - أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أنبأ إسماعيل بن قتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، حدثنا مسلم بن خالد، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، أن رجلا اشترى من رجل غلاما في زمن النبي صلى الله عليه وسلم، فكان عنده ما شاء الله، ثم رده من عيب وجد به، فقال الرجل حين رد عليه الغلام: يا رسول الله إنه كان استغل غلامي منذ كان عنده. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «الخراج بالضمان» اھ (2/ 18) والله اعلم بالصواب
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0