السلام علیکم !
حکومت کی جانب سے قدرتی جنگلات کی کٹائی پر پابندی ہے ، میرے ایک قریبی عزیز گندم کا بھوسہ اٹھانے کے لئے ایک اوزار بناتے ہیں جس میں بانس اور کہو (مروجہ نام) نامی درخت کی لکڑی استعمال کی جاتی ہے،کہو کی لکڑی ایسے جنگلات سے کاٹی جاتی ہے جہاں کٹائی کرنے پر پابندی ہے، ہم اس لکڑی کو ایک مخصوص شکل میں ڈھال کر دیتے ہیں جس پر کچھ اجرت ملتی ہوتی ہے،اس اجرت کے متعلق کیا حکم ہے،اجرت میں ملی رقم کو میں نے اپنی دکان میں انویسٹ کردیا تھا جس میں وقت کے ساتھ منافع کی وجہ سے خاصہ اضافہ بھی ہوچکا ہے کیونکہ اس وقت دکان اور اس کام کے علاوہ میرا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں تھا، اگر یہ اجرت درست نہیں ہے تو کیا مجھے صرف اصل رقم ہی بغیر ثواب کی نیت سے صدقہ کرنا ہے یا اس رقم پر ملا منافع بھی؟ اسی طرح بینک سے ملا سود بھی دکان میں انویسٹ کرنے پر کیا حکم ہوگا، صرف سود میں ملی رقم ہی غریبوں کو دینا ہوگی یا اس پر ملا منافع بھی۔
سائل کا مذکور لکڑی از خود جنگل سے کاٹے بغیر فقط لکڑی کو مخصوص ہیئت پر ڈھالنا اور اس کی اجرت لینا تو درست ہے، نیز اس اجرت کی رقم کاروبار میں لگا کر اس سےحاصل کردہ منافع بھی حلال ہے، البتہ بینک سے ملی ہوئی سود کی رقم کاروبار میں لگا کر اس سے نفع حاصل کرنا درست نہ تھا، تاہم اگر سائل نےاب وہ سود کی رقم کاروبار میں لگا دی ہو، تو ایسی صورت میں سائل کو چاہیئے کہ وہ مذکور سودی رقم کے بقدر رقم صدقہ کردیں،جس کے بعد اس کاروبار اور اس سے حاصل کردہ منافع سے فائدہ حاصل کرنا سائل کے لئے حلال ہوگا۔
کما فی رد المحتار تحت: (قوله عند التسليم) (الی قولہ) والأجرة إنما تكون في مقابلة العمل الخ (کتاب النکاح، ج 3، ص 156، ط: سعید)۔
کما فی ردالمحتار : و يردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ ۔ (کتاب الحظر والإباحۃ، ج6، ص385، ط: سعید )۔
و فیہ ایضاً : و الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، الخ (کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد، ج5 ، ص99، ط: سعید )۔
وفیہ ایضاً تحت: (قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام اهـ(مطلب إذا اكتسب حراما ثم اشترى فهو على خمسة أوجه،ج5،ص235،ط:سعید)۔