میرے تایا کا انتقال 2023 میں 47 سال کی عمر میں ہوا، وہ غیر شادی شدہ تھا ،اور اس کے والدین پہلے ہی فوت ہوچکے ہیں،اس کا ایک بھائی اور ایک بہن ہے ،دونوں کئی سال پہلے وفات پا چکے ہیں،بھائی کی بیوہ زندہ ہے، اور اس کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، اور فوت شده بہن کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، مہربانی فرما کر رہنمائی کریں ، کہ جائیداد ان کے درمیان کیسےتقسیم کی جائے ؟
سائل کے تایا مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کرکےاس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل دو برابر حصے کرکے دونوں بھتیجوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک حصہ دے دیا جائے -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2