السلام علیکم
محترم مفتیان کرام مندرجہ ذیل سوال کے متعلق شریعت کی روشنی میں فتوی ارسال فرما دیں۔۔
بکر لاولد فوت ہوا(یعنی بنا شادی اولاد) ۔والدین اس کے پہلے ہی فوت ہوچکے تھے ۔اس کے ورثاء میں درج ذیل لوگ زندہ ہیں ۔
ایک حقیقی بہن ۔
ایک سوتیلا بھائی ۔(باپ ایک والدہ الگ الگ )
حقیقی مرحوم بھائی کی اولاد یعنی بھتیجے موجود ہیں۔
ان ورثاء میں بکر کی جائیداد کس طرح تقسیم ہو گی ؟
جزاک اللہ
صورتِ مسؤلہ میں مرحوم بکر کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائداد ، سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الاداء قرض ہوتو اس کی ادائیگی کریں ،اس کے بعددیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے برابر 2 حصے بنائے جائیں ،جن میں سے 1 حصہ مرحوم کی بہن کو ،جبکہ مرحوم کے سوتیلے بھائی کو بھی 1 حصہ دیا جائے -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2