کسی کتاب کو اس کے مصنف کی اجازت کے بغیر، یا اگر وہ فوت ہوگئے ہیں تو ان کے کسی وارث کے اجازت کے بغیر ان کی کتاب میں کسی بھی قسم کی ترمیم، تبدیلی یا حذف کر کے اسے نئے سرے سے اسی نام پر اور اصل مصنف ہی کی طرف منسوب کرتے ہوے شائع کرنا شریعت کے لحاظ سے کیسا ہے؟اور اس طرح کرنا اس میں موجود چند غیر مستند باتوں، یا ضعیف روایات یا پھر مرجوح اقوال کی وجہ سے ہو۔
واضح ہو کہ کتاب کی طباعت اور اس کی نشر و اشاعت حقوقِ مجرّدہ میں سے ہے ،جس کا حق مصنف اور مولف کو حاصل ہوتا ہے ، اس لئے اگر کتاب کےمصنف نے حقِ طباعت و نشر کو با قاعدہ قانونامحفوظ کر والیاہو تو اس کی اجازت کے بغیر اس کتاب کی طباعت اور نشر و اشاعت کرنا جا ئز نہیں (خواہ کسی بھی مقصد سے ہو ) اس سے احتراز لازم ہے۔
تاہم اگر کوئی شخص مؤلف یا اس کے ورثاء سے اجازت لےلے تو ان کی اجازت کے بعد اس میں ترمیم کرکے دوبارہ چھاپنا شرعاً جائز ہوگا۔
فی مشکاۃ المصابیح : و عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان و الدارقطني في المجتبى اھ(2/889)۔
و فی الفقہ السلامی و ادلتہ : اولاً : الاسم التجاري و العنوان التجاري و العلامة التجارية و التأليف و الاختراع أو الابتكار هي حقوق خاصة لأصحابها أصبح لها في العرف المعاصر قيمة مالية معتبرة لتمول الناس لها و هذه الحقوق يعتد بها شرعاً فلا يجوز الاعتداء عليها. ثانياً : يجوز التصرف في الاسم التجاري أو العنوان التجاري أو العلامة التجارية و نقل أي منها بعوض مالي إذا انتفى الغرر و التدليس و الغش باعتبار أن ذلك أصبح حقاً مالياً. ثالثاً : حقوق التأليف و الاختراع أو الابتكار مصونة شرعاً و لأصحابها حق التصرف فيها و لا يجوز الاعتداء عليها . اھ (8/546)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0