کیا شادی شدہ بیٹا اپنی بیوی کے بجائے اپنی ماں کے ساتھ سو سکتا ہے؟ حال ہی میں میری بہن کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے، میری والدہ اور میری بہن ساری رات بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں، میری بہن کے شوہر، بہن کے ساتھ سونے کے بجائے اپنی والدہ کے ساتھ سوتے ہیں،اگر میری بہن کے شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی کمرے میں سوئیں، تو میری والدہ دوسرے کمرے میں ایک بچے کو سنبھال سکتی ہیں، لیکن چونکہ میری بہن کی ساس کو اس بات سے تسلی ہوتی ہے کہ ان کا بیٹا ان کے ساتھ سوئے، اس لیے وہ اپنے بیٹے کو اپنے ہی کمرے میں سلاتی ہیں، تاکہ وہ اپنی بیوی سے الگ رہے،میری بہن کی ساس بڑی خوشی سے سب کو یہ بھی بتاتی ہیں کہ "میرا بیٹا میرے ساتھ سوتا ہے۔"اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
شادی شدہ بیٹے کے لئے اپنی والدہ کی خدمت ،دلجوئی اور ضرورت کے وقت ان کے پاس رہنا جائز ہے،لیکن اس سے بیوی کے شرعی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہیئے،لہذا صورتِ مسؤلہ میں محض والدہ کی خواہش کی وجہ سے بیوی کو مسلسل نظر انداز کرتے ہوئے والدہ کے ساتھ سونا درست نہیں ، جس سے احتراز چاہیے۔
کما قال اللہ تعالی:﴿ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾ [النساء: 19]۔
وفی مشکاۃ المصابیح:"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي"اھ(مشکاة المصابیح، 2/281، باب عشرة النساء، ط: قدیمي)۔
وفی بدائع الصنائع:"وللزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج، ويجبر عليه في الحكم مرة واحدة والزيادة على ذلك تجب فيما بينه، وبين الله تعالى من باب حسن المعاشرة واستدامة النكاح، فلا يجب عليه في الحكم عند بعض أصحابنا، وعند بعضهم يجب عليه في الحكم."(كتاب النكاح، فصل بيان حكم النكاح، 331/2، ط: دار الكتب العلمية)۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:"المعاشرة بالمعروف من كف الأذى وإيفاء الحقوق وحسن المعاملة: وهو أمر مندوب إليه، لقوله تعالى: "وعاشروهن بالمعروف "ولقوله صلّى الله عليه وسلم: "خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي" وقوله:"استوصوا بالنساء خيراً".ومن العشرة الطيبة...ألا يستمتع بها إلا بالمعروف، فإن كانت نِضْو الخلق (هزيلة) ولم تحتمل الوطء، لم يجز وطؤها لما فيه من الإضرار.
حكم الاستمتاع أو هل الوطء واجب؟ قال الحنفية: للزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها، كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج."(الباب الأول: الزواج وآثاره، 9 /6598 -6599، ط: دار الفكر)۔