السلام علیکم! جناب مفتی صاحب ! اگر کسی امام مسجد کا کردار درست نہ ہو ، تو کیا اس کے پیچھے نماز ہو سکتی ہے یا نہیں؟ وہ جس طالب علم کو پڑھاتا ہے ان میں سے ایک کے ساتھ اس کے غلط تعلقات ہیں، ایسی صورت میں اُس کے پیچھے نماز جائز ہے کہ نہیں؟ براہِ کرم جلد جواب دیں۔
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو محض الزام تراشی پر قائم نہ ہو ، تو ایسی صورت میں مذکو رامام موصوف شرعاً فاسق ہیں اور جب تک وہ اپنے اس فعل بد سے بصدقِ دل توبہ واستغفار کر کے آئندہ کے لیے بھی اس سے مکمل احتراز نہ کرلے ، اس وقت اس کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی ہے۔
ففی الهدایة: ویکره تقدیم العبد (إلی قوله) والفاسق لأنه لا یهتم لامر دینه اھ (۲/ ۱۲۲) واللہ أعلم بالصواب!
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0