Assalam o Alaikum
I have 1 question related to a new business I am starting. tHE BUSINESS IS RELATED TO INVESTING IN used cars. Buying the used car and selling those in profit. the generated will be considered as interest or not? As I believe that I am taking money from other investors and using it to buy an asset and after checking the market just selling it. the profit can be generated from it. so can you clarify it ?
ترجمہ: السلام علیکم! میرا ایک سوال ہے جو ایک نئے بزنس سے متعلق ہے جو میں شروع کر رہی ہوں ،بزنس استعمال شدہ گاڑیوں میں انویسمنٹ(سرمایہ کاری) سے متعلق ہے ،استعمال شدہ گاڑیوں کو خریدنا اور ان کو نفع کے ساتھ بیچنا ،نفع سود شمار ہوگا یا نہیں؟ جیسا کہ میں مانتی ہوں کہ میں دوسرے انوسٹر (یعنی سرمایہ کاروں) سے پیسے لیتی ہوں اور ان کو چیز خریدنے میں استعمال کرتی ہوں اور مارکیٹ دیکھنے کے بعد ان کو فروخت کرتی ہوں منافع اس سے حاصل کیا جائے گا،تو کیا آپ اس کو واضح کرسکتے ہیں۔
سائلہ اگر گاڑی خریدنے کے بعد از خود یا اپنے کسی وکیل کے ذریعہ اس پر قبضہ بھی کرلے تو اس کو آگے منافع کے ساتھ بیچنا بلاشبہ جائز ہے اور حاصل ہونے والا منافع بھی حلال ہوگا ،سود نہیں ہوگا،البتہ معاملات میں غلط بیانی اور دھوکہ دہی سے اجتناب لازم ہے , تاہم اگر سائلہ اس کاروبار میں دیگر انوسٹر حضرات سے پیسے لیکر ان کو بھی اس کاروبار میں پارٹنر بنائے تو پارٹنر شپ کے علماءِ دین کی رہنمائی میں شرعی اصولُ و ضوابط کی پابندی کرنا بھی لازم ہوگا۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0