السلام علیکم! محترم مفتی صاحب!
میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی بیوی کو اپنے شوہر کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ شراب نوشی اور دیگر پارٹیوں میں ملوث ہے، جیسے کہ نا محرم لڑکیوں کے ساتھ رقص کرتا ہے ، اور کچھ نامناسب کام کرتا ہے، اور ثبوت کے طور پر میرے پاس ایک تصویر بھی ہے، میں اللہ کی قسم کھاتی ہوں کہ میں نے ان کی تصویر ایک عورت کے ساتھ دیکھی ہے کہ وہ اسکو گلے لگا رہے تھے اور وہ بہت قریب تھے،دین اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ میں اسے ظاہر نہیں کر سکتی ہوں ، کیونکہ یہ ملازم کی طرف سے بھیجی گئی،جو وہاں کام کر رہا ہے،اور اس کے لئے اسے حل کرنا بڑا مشکل کام بن جائے گا،لیکن چونکہ مجھے سب کچھ معلوم ہے اب مجھے کیا کرنا چاہیئے،میرے تین بچے ہیں اور مجھے اس بارے میں فتویٰ چاہیئے۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو , تو سائلہ کے شوہرکا شراب نوشی کا مرتکب ہونا،غیر محارم خواتین کیساتھ رقص و سرور کے محفلوں میں شرکت کرنا اور انہیں اپنے قریب کرکے انہیں گلے لگانا شرعاً ناجائز ،حرام عمل ہے،جسکی وجہ سے وہ گناہگار ہوا ہے، جس پر اسے اللہ کے حضور بصدقِ دل تو بہ واستغفار اور آئندہ ایسے امور سے اجتناب لازم ہے۔
جبکہ سائلہ کو چاہیئے کہ حکمت و بصیرت کیساتھ ازخود یا برادری کے سمجھدار افراد کے ذریعے انہیں سمجھانے کی کوشش کرے،اور ساتھ ساتھ اسکے لیئے دعاؤں کا بھی اہتمام کرے،ان شاء اللہ امید ہے کہ وہ راہِ راست پر آجائے۔
کما فی أحكام القرآن للجصاص: قال أبو بكر وهذا يدل على أنهم كانوا متعبدين بذلك في المسلم والكافر وقد قيل إن ذلك على معنى قوله تعالى ]ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتي هي أحسن[والإحسان المذكور في الآية إنما هو الدعاء إليه والنصح فيه لكل أحد اھ(47/1)
و فی سنن الترمذي:حدثنا قتيبة، قال: حدثنا جرير بن عبد الحميد ، عن عطاء بن السائب، عن عبد الله بن عبيد بن عمير ، عن أبيه قال: قال عبد الله بن عمر : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من شرب» الخمر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد الرابعة لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب لم يتب الله عليه، وسقاه من نهر الخبال قيل: يا أبا عبد الرحمن وما نهر الخبال؟ قال: نهر من صديد أهل النار۔ هذا حديث حسن اھ(440/3) واللہ اعلم