ترجمہ : میرا سوال ہے کہ لڑکی اگر نوکری کر رہی ہو ،اور شوہر کا مطالبہ ہو کہ اپنی تنخواہ کا 67 فیصد حصہ مستقبل کی بچت کیلئے مقرر کرے، جس پہ شوہر کا بھی برابر سے حق ہو گا ، کیا ایسا کرنا شوہر کے
لئے جائز ہے؟اور اگر شوہر ان پیسوں سے اپنے گھر والوں کیلئے کچھ کرنا چاہے تو کیا یہ جائز ہے؟دوسری طرف شوہر اپنی تنخواہ کا 52 فیصد اپنا گھر چلانے کیلئے لگاتا ہے،20 فیصد اپنے ماں باپ ،بھائیوں کو دیتا ہے ،اور باقی کا 28 فیصد اپنی ذاتی بچت کے طور پہ رکھتا ہے ،مفتی صاحب مجھے یہ بات پریشان کر رہی ہے ، کہ اگر میں اپنی تنخواہ سے اپنے گھر والوں کیلئے کچھ کرنا چاہوں، تو میرے شوہر کی اجازت کا مجھے محتاج رہنا پڑتا ہے ،کیوں کہ انہوں نے مجھ سے شروع میں ہی یہ طے کروالیا تھا ،کہ میں اپنی تنخواہ کا اتنا حصہ مستقبل کی بچت کیلئے رکھوں گی ، جن پہ ان کا بھی حق ہوگا ،مجھے اس چیز سے مسئلہ نہیں ،لیکن جب مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میرا شوہر اس بچت سے اپنے گھر والوں کیلئے تو برابر سے سب کرنا چاہتےہیں، اور میری خواہش پر روک ٹوک کرتےہیں، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگتا ،میرا اس پہ دل کرتا ہے کہ میں کچھ بھی فیوچر سیونگ کیلئے جمع نہ کروں ، لیکن مجھے اس بات کا پھر ڈر بھی لگتا ہے کہ میرا شوہر مجھ سے سخت ناراض ہوجائے گا ، کیوں کہ ان کے حساب سے آج کل ایک کے تنخواہ سے گزرا نہیں ہوتا،جہاں لڑکے کو اپنے ماں باپ بھائیوں کو بھی سپورٹ کرنا ہو،پلیز مجھے کوئی حل بتائیں، کہ شوہر ناراض بھی نہ ہو اور میں بد دلی سے بھی کام نہ لوں ، مجھے ایسا خدشہ لگتا ہے کہ اگر میں ان سے کہوں کہ مجھے اپنا حصہ نہیں ڈالنا تو وہ کہیں گے کہ کام چھوڑ کر گھر بیٹھی رہو پھر ،پلیز میری مدد کیجئے کیوں کہ مجھے اپنے شوہر کا یہ فعل بہت مطلبی سا لگتا ہے ، کہ انہوں نے مجھے نوکری کی اجازت صرف اس لئے دے رکھی ہے کہ کچھ سیونگ ہوسکے ،ورنہ میں گھر بیٹھ جاؤں ۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنےمال و جائیداد کا تنہامالک ہوتا ہے ،وہ اس میں جیسا چاہے جائز تصرف کر سکتا ہے ،کسی اور کا اس کے مال اور جائیداد میں بلا اجازت تصرف کرنا یا اس پر پابندی لگانا جائز نہیں ،جس سے اجتناب لازم ہے ،لہٰذا صورتِِ مسئولہ میں سائلہ کو ملنی والی تنخواہ سائلہ کی ذاتی ملکیت ہے ،وہ اس میں جیسے چاہے تصرف کرسکتی ہے ،لہٰذا سائلہ اپنے گھر والوں پر بھی اس میں سے خرچ کرسکتی ہے ،شوہر کا اس سے روکنا یا سائلہ کی ذاتی رقم میں برابری کا دعوی کرنا شرعاً درست نہیں ،جس سے شوہر کو احتراز لازم ہے،تاہم اگر سائلہ کا شوہر سائلہ کا نان نفقہ برداشت کرسکتا ہو ،تو اس پر گھر سے نکل کر اپنے لئے کمانا شرعاً لازم نہیں ،بلکہ بلا ضرورت گھر سے نکلنے سے اجتناب لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی ؛َ یاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَ لَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (النساء/29)-
و فی شرح المجلہ : لا یجوز لاحد ان یتصرف فی ملک غیرہ بلا اذنہ او وکالۃ منہ او ولایۃ علیہ و ان فعل کان ضامنا اھ(1/61)