السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں:
ایک خاتون جس کا شوہر علم ہونے کے باوجود اس کی کوئی ذمہ داری پوری نہیں کرتا، نفقہ، سکنی، علاج معالجہ، ہمدردی و خبر گیری تمام ذمہ داریوں سے شوہر کا کوئی واسطہ نہیں، اور اپنے اخلاق و کردار اور باتوں کے ذریعہ بیوی کو تکلیف دیتا رہتا ہے، نیز بیوی سے اپنے جسمانی اور دیگر حقوق کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایک طویل عرصے سے یہی حالات جاری ہیں جس کی بنا پر بیوی ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا ہے، بیوی اپنے اوپر عائد تمام حقوق پورے کر رہی ہے، لیکن جسمانی تعلقات کی وجہ سے وہ سخت ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بیوی کے لیے ان حالات میں بھی شوہر کے حقوق پورے کرنے ضروری ہیں؟ کیا وہ شوہر کو جسمانی تعلقات سے روک سکتی ہے؟ براہ کرم دلائل کی روشنی میں جواب مرحمت فرما کر مشکور و ممنون فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً!
واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ نے میاں بیوی میں سے ہر ایک کے لئےدوسرے پر حسنِ معاشرت کے اعتبار سے بہت سے حقوق عائد کیئے ہیں،چنانچہ جس طرح بیوی ان حقوق کی ادائیگی کی پابند ہے ایسا ہی شوہر پر بھی اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ معاشرت اختیار کرنا لازم ہے،لہٰذا سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی و دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو ، تو مذکور شوہر کا قدرت و استطاعت کے باوجود اپنی بیوی کے نان و نفقہ وغیرہ دیگر حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لینا شرعاً جائز نہیں،شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کے حقوق پورے کرکے اپنے آپکو مؤاخذہ اخروی سے بچانے کی فکر کرے۔
جبکہ بیوی کو اگر کوئی عذر نہ ہو تو شوہر کی طرف سے ازدواجی حقوق کے مطالبے کے باوجود،اسے ازدواجی حقوق کی ادائیگی سے روکنا درست نہیں،تاہم اگر شوہر کو سمجھانے کے باوجود بھی وہ بیوی کے حقوق پورے نہ کرتا ہو ، تو ایسی صورت میں بیوی طلاق یا خلع کے ذریعے اس سے علیحدگی حاصل کر سکتی ہے۔
کما قال اللہ تعالی: فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به}سورة البقرة: ٢٢٩{
و فی صحيح البخاري:عن أبي هريرة قال:قال رسول الله ﷺ: (إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت، فبات غضبان عليها، لعنتها الملائكة حتى تصبح) اھ(1182/3)
و فی سنن الترمذي: عن قيس بن طلق، عن أبيه طلق بن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته، وإن كانت على التنور»: هذا حديث حسن غريب اھ(457/3)
و فی بدائع الصنائع: وللزوج أن يطالبها بالوطء متى شاء إلا عند اعتراض أسباب مانعة من الوطء كالحيض والنفاس والظهار والإحرام وغير ذلك، وللزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج، ويجبر عليه في الحكم مرة واحدة والزيادة على ذلك تجب فيما بينه، وبين الله تعالى من باب حسن المعاشرة واستدامة النكاح، فلا يجب عليه في الحكم عند بعض أصحابنا، وعند بعضهم يجب عليه في الحكم اھ(331/2)واللہ اعلم