زید جو کہ زمین کا مالک ہے اس نے اپنی زمین کاشتکاری کے لیے بکر کو دی ہے , فصل پر جتنا خرچہ آتا ہے مثلاً بیج یعنی تخم ، ٹیوب ویل ، ٹریکٹر ،کھاد ،تھریشر , یہ سب زمین کے مالک کی ذمہ ہے اور بکر کی ذمہ کام کرنا ہے مثلاً فصل کو پانی دینا , فصل کٹوانا , تھریشر کرکے بھوس کا انتظام کرنا , یہ سب کسان کی ذمہ ہے , زمین کا مالک اور کسان کے درمیان پہلے سے یہ بات طے ہوئی ہے کہ کسان کو پیداوار کا تیسرا حصہ ملے گا مثلاً اگر کل پیداوار 180 من گندم ہو تو 60 من گندم کسان کی ہوگی , اب پہلا سوال یہ ہے کہ غلہ آنے کے بعد مندرجہ بالا صورت میں عشر کون ادا کرے گا ؟ مالک یا کسان؟ یا دونوں اپنے اپنے حصے کا عشر ادا کریں گے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگرعشر صرف زمین مالک کی ذمہ ہے تو عشر کل پیداوار سے ادا کرے گا یا کسان کا حصہ نکال کر اپنے حصے سے عشر ادا کرنا ہوگا ؟
واضح ہو کہ عشر زمین کی کل پیداوار پر لازم ہوتا ہے ، لہذا پیداوار حاصل ہونے کے بعد سب سے پہلے کل پیداوار کا عشر ادا کیا جائے , اس کے بعد جو کچھ بچ جائے وہ مالک اور کسان درمیان حسبِ معاہدہ تقسیم کیا جائے ،البتہ عشر ادا کرنےسے پہلے کھیتی پر آنے والے اخراجات یا کسان کا حصہ منہا کرنا درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے -
عشر کی رقم چچاز زاد اور پھوپھی کو دینا - بیت الخلاء میں وضو کرتے وقت دعائیں پڑھنا
یونیکوڈ عشر و خراج 0