کسی لڑکی کی شادی کے تین یا چار ماہ بعد لڑکی روٹھ کر میکے آئی، اس بات پر کہ بات بات پہ شوہر جھگڑا کرتا تھا ،اس کے بعد اسکے سسرال یا شوہر نے کوئی خبر نہیں لی ،اور نہ لینے آئے، پھر بچی بھی پیدا ہو گئی اس وقت بھی شوہر نہیں آیا ،اور الٹا دوسری شادی کی دھمکیاں بھی دے رہا ہو تو ا ب ایک سال پورا ہونے کو ہے اب اگر بیوی بیزار ہوکر طلاق لینا چاہے تو شرعی کیا حکم ہے ؟
مسئولہ صورت میں اولاً تو میاں بیوی کو چاہیئے کہ از خود یا خاندان کے بڑوں کے ذریعے آپس کے اختلافات اور رنجشوں کو ختم کر کے گھر بسانے کی کوشش کریں، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود اگر مصالحت اور نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو اور میاں بیوی کیلئے ایک ساتھ رہ کر " حدود اللہ " کی رعایت رکھنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں بیوی طلاق یا خلع کے ذریعے شوہر سے علیحد گی حاصل کر سکتی ہے۔
وقال تعالى: (فَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لَا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افتدت به) [البقرة/229)۔
وفي الهداية :وإن طلقها على مال فقبلت وقع الطلاق ولزمها المال اھ (2/45)۔
وفيها ايضا :وإن تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها فإن فعل ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال.(۴۰۴۰۲)-
وفي الدر المختار مع الشاميۃ : ولا بأس به عند الحاجة للشقاق بعدم الوفاق بما يصلح للمهر . ( ۸۷.۵)۔
وفیه ایضاً:فقد صرح فی الخانیة:بانھا لو ابراته عما لھا علیه علی ان یطلقھا فان طلقھا جازت البراءۃ والا فلا (5/107)۔
وفیه ایضاً:وحکمه ان الواقع به ولو بلا مال وبالطلاق الصریح علی مال طلاق بائن (3/444)۔
وفی البحرالرائق:واما سببه فالحاجة الی الخلاص عند تباین الاخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم اقامة حدود اللہ تعالی وشرعه رحمة منه سبحانه ویکون واجباً اذا فات الامساک بالمعروف اھ (3/234)۔