ایک شخص نے عمرہ کیا ، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی سے فارغ ہوکر بال نہیں کاٹے ، نہا کر کپڑے پہن لیے ، بعد میں ساتھیوں کے سمجھانے پر دوبارہ احرام باندھ کر حلق کروایا ، اس کا شرعا کیا حکم ہے ؟
شخصِ مذکور نے اگر حلق یا قصر سے پہلے سلے ہوئے کپڑے پہن لینے کے بعد پورے ایک دن یارات سے پہلے اتار کر احرام کی چادریں پہن لی تھیں تو اس کی وجہ سے ایک صدقۂ فطر کے برابر گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنالازم ہے، اور اگر ایک دن یا رات کے مکمل ہونے کے بعد کپڑے اُتارے ہوں تو اس کی وجہ سے ایک دم لازم ہو چکا ہے، اسی طرح نہاتے ہوئے صابن کا استعمال نہ کیا ہو یا بغیر خوشبو والا صابن استعمال کیا ہو تو اس کی وجہ سے کچھ لازم نہیں ، البتہ اگر تیز خوشبو والا صابن یا شیمپو استعمال کیا ہو تو اس کی وجہ سے دم لازم ہو گا اور اگر ہلکی خوشبو والا صابن یا شیمپو استعمال کیا ہو تو اگر ان چیزوں سے بار بار جسم نہ دھویا ہو، بلکہ صرف ایک بار جسم دھویا ہو تو (صدقۂ فطر کی مقدار کے بقدر ) صدقہ کرنالازم ہو گا، البتہ اگر بار بار جسم دھویا ہو تو اس سے دم لازم ہو گا،یاد رہے کہ دم کی ادائیگی حدودِ حرم میں لازم ہے ، حدودِ حرم سے باہر اس کی ادائیگی شرعاً معتبر اور درست نہیں،جبکہ صدقۂ فطر حرم سے باہر بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔
كما فی غنية الناسك : واذا اختلف جنس الجناية تعذر التداخل الا اذا فعلها على قصد رفض الاحرام ( ص - 241 - باب الجنايات)
وفیه أیضاً : اذا تعدد الجنايات تعدد الجزاء (ص - ( 241)
وفیه أیضاً : ولو غسل راسه بالحرض والصابون لا رواية فیه وقالوا: لاشيئ فیه : لانه ليس بطيب ولا يقتل وكذا لوغسل راسه بالسدر لاشيئ عليه (249)
وفیه أیضاً: ولو غسل راسه او يده باشنان فی ه الطيب فان كان من راه سماه اشنانافعليه صدقة الا ان يغسل مرا وافعليه دم. وفی ه أیضاً : القدر هو ان يكون نصف صاع من بر او من دقيقة أو سويقة اهـوفی هأیضاً : ويجوزداءالقيمةفىالكلدراهماودنانيراوفلوساًاوعروضاً او ماشاء اھ
وفیه أیضاً والثامن : ذبحه فى الحرم ، فلو ذبح فى غيره لا يجزئه عن الذبح اھ(262)
وفی الفتاوى الهندية : إذا لبس المحرم المخيط على الوجه المعتاد يوما إلى الليل فعليه دم، وإن كان أقل من ذلك فصدقة كذا فی المحيط سواء لبسه ناسيا أوعامدا عالما أو جاهلا مختارا أو مكرها هكذا فی البحر الرائق اھ(1/242)۔
وفی ارشاد السارى : فاذا لبس مخيطاً يوما كاملا اوليلة كاملة فعليه دم ، وفى اقل من بوم ای مقدار نهار ولو ينقص ساعة ) او ليلة صدقة وهى نصف صاع من بر) وكذا لو لبس ساعة اى نجومية وهى جزء من اجزاء اثنى عشر حالة اعتدال الليل والنهار) فصدقة الخ (424 - 426 ، باب الجنايات ، النوع الأول فی حكم اللبس)۔