کیافرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ عیدین اور خطبے کے درمیان دعا کے بارے میں ، عبارات درج ذیل سے متعلق حکیم الامت حضرت تھانویؓ تحریر فرماتے ہیں کہ" اور بعد نماز دعا نہ کرنا اور بجائے اس کے بعد خطبہ مقررکرنا تغییرِ سنت ہے اور قابلِ احتراز ہے "( امداد الفتاوی۱/۴۴)
حضرت انور شاہؒ فیض الباری میں تحریر فرماتے ہیں:
فیض الباری علی صحیح البخاری: و اعلم أنَّہ لا دعاء بعد صلاۃ العیدین، لأنَّ المطلوب ھہنا اتصال الصلاۃ و الخطبۃ، و لا ینفع فیہ التمسک بالاطلاقات، و انما یسوغ التمسک من الاطلاقات فیما لم تکن لہ مادۃ فی خصوص المقام، و صلاتہ تلک لم تزل الی تسع سنین، و لم ینقل احدٌ فیہ ا الدعاء بعدہا(1/ 493)۔
فیض الباری علی صحیح البخاری: والمراد بالدعوۃ: الکلمات الدُّعَائیۃ التی فی خلال الخطبۃ ، لأنہ لم یثبت عن النبی - صلی اللہ علیہ وسلم - دُبُرَ صلاۃ العیدین دعاءٌ ولو مرۃً، کما مر آنفاً. (1/ 502)۔
حقیقت یہ ہے کہ احادیثِ مبارکہ میں اس کی کوئی تصریح نہیں ملتی جس سے معلوم ہوتا ہو کہ عیدین میں دعا نماز کے فوراً بعد ہوگی یا بعد خطبہ؟ اس لیے حضرت تھانوی رحمہ اللہ دوسری نمازوں پر قیاس کرتے ہوئے بعد نمازِ عید اور حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے استصحابِ حال اور دلائلِ صریحہ کی عدم ِموجودگی میں اختتامِ مجلس پر دعا کا حکم دیا ہے اور عموماً رائج بھی یہی ہے اس لیے اندیشۂ فساد کی بنا پر اسی کو اختیار کرنا راجح معلوم ہوتا ہے۔