۱۔ کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عید گاہ میں نماز ِعید کی ادائیگی کا کیا حکم ہے؟ واجب، سنت یا مستحب؟
۲۔ عیدگاہ کا وقف ہونا ضروری ہے یا مثلاً گورنمنٹ کا کوئی بھی میدان، یا لوگوں کی شاملات یا اسکول، یا جنازہ گاہ وغیرہ ہو اس میں نمازِ عید کی ادائیگی درست ہے یا حکومت کی اجازت ضروری ہے؟ بینوا وتوجروا
۱، ۲۔ نماز ِعیدین کی ادائیگی کے لۓ بہتر اور مستحب یہ ہے کہ آبادی سے باہر کسی بڑے میدان میں ادا کی جائے اور آبادی کے سارے مکین ایک ہی جگہ ادا کریں، تاکہ مسلمانوں کی عظمت و شوکت ظاہر ہو اور اس جگہ کا مذکور مقصد کے لۓ باضابطہ وقف ہونا شرعاً ضروری نہیں، بلکہ بہتر ہے ،لہٰذا اگر کسی آبادی کے متعلقین کے لۓ نمازِ عیدین کی ادائیگی کےلۓ باضابطہ کسی جگہ کا انتظام نہ ہو تو کسی بھی اسکول وغیرہ کی انتظامیہ کی اجازت سے وہاں اس عبادت کی ادائیگی بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
فی البحر الرائق: ومن بنیٰ مسجداً لم یزل ملکه عنه حتّیٰ یفرزه عن ملکه بطریقه ویأذن بالصلوٰة فیه وإذا صلی فیه واحد زال ملکه (إلی قوله) وأطلق فی المسجد فشمل المتخذ لصلٰوة الجنازة أو العید، وفی الخانیة: مسجد اتخذ لصلوٰة الجنازة أو لصلوٰة العید هل یکون له حکم المسجد إختلف المشائخ فیه قال بعضهم یکون مسجداً حتی لو مات لایُورث عنه وقال بعضہم ما اتخذ لصلوٰة الجنازة فهو مسجد لا یورث عنه وما اتخذ لصلوٰة العید لا یکون مسجداً مطلقاً وإنما یعطیٰ له حکم المسجد فی صحة الاقتداء بالامام وإن کان منفصلاً عن الصفوف وأمّا فیما سِویٰ ذلك فلیس له حکم المسجد وقال بعضهم یکون له حکم المسجد حال اداء الصلوٰة لا غیر وهو الجبانة سواءٌ و یجنب هذا المکان کما یجنب المسجد احتیاطاً اھ فأفاد بالإقتصار علیٰ الشروط الثلٰثة أنه لا یحتاج فی جعله مسجداً (إلی قوله) وقفته ونحوه لأن العرف جارٍ بالاذن فی الصلوٰة علیٰ وجه العموم والتخلیة بکونه وقفاً علیٰ هذه الجهة اھ (۵/ ۲۴۸)۔
وفی الفتاوى الهندية: الخروج إلى الجبانة في صلاة العيد سنة وإن كان يسعهم المسجد الجامع على هذا عامة المشايخ وهو الصحيح هكذا في المضمرات اھ (1/ 150)۔