کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اکثر شادیوں میں دیکھا گیا ہے کہ رخصتی کے وقت لڑکی کے سر کے اوپر قرآن کریم کو اٹھا کر رخصت کیا جاتا ہے، یہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ لڑکی پر قرآن کا سایہ ہوتا ہے ، جبکہ دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ قرآن پاک کی بے ادبی ہے، تفصیل سے حکم بیان فرماکر ممنون فرمائیں۔
مذکور عمل محض رسم ہے، شریعت ِمطہرہ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں، اس سے احتراز چاہیے۔
ففی مرقاة المفاتيح: و في رواية لمسلم: (من عمل عملا) أي من أتى بشيء من الطاعات أو بشيء من الأعمال الدنيوية و الأخروية سواء كان محدثا أو سابقا على الأمر ليس عليه أمرنا، أي: وكان من صفته أنه ليس عليه إذننا بل أتى به على حسب هواه فهو رد اه (1/ 222)۔