کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے یہاں بنوں میں تبلیغی مرکز کے امام صاحب عید کے خطبے کے بعد بہت لمبی اور اثر انگیز دعا مانگتے ہیں، لوگوں پر اس کا کافی اثر ہوتا ہے، اور واقعی گناہوں پر ندامت پیدا ہو جاتی ہے، لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے ہیں، اور واپسی پر لوگ اپنی کیفیت بدلی ہوئی محسوس کرتے ہیں اور بہت سے لوگ اس روح پرور منظر کو دیکھ کر تبلیغ میں جانے کیلۓ تیار ہو جاتے ہیں، پھر ان کی زندگیوں میں ایک عجیب و عظیم انقلاب رونما ہو جاتا ہے، اس بنا پر کافی دور دور سے عید کی نماز پڑھنے کیلۓ لوگ تبلیغی مرکز آتے ہیں، بلکہ بعض ساتھی ترغیب دیتے ہیں کہ مرکز میں نماز پڑھی جائے،تو بہت بہتر ہے، ہمارے ہاں بعض علماء فرماتے ہیں کہ عیدین کے خطبے کے بعد دعا مانگنا بدعت ہے اور ہمارے اکابر علماءِ دیوبند نے اس کی تصریح کی ہے تو کیا واقعی بدعت ہے؟ جبکہ اس سے وہ فوائد حاصل ہوتے ہیں جو اوپر بیان کیے گئے، براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ کی مکمل وضاحت فرما کر مشکور فرمائیں۔
دیگر نمازوں کی طرح نمازِ عیدین کے بعد بھی دعا کرنا، جائز اور مستحب ہے، جسے بلاوجہ بدعت قرار دیکر اسے علماءِ دیوبند کی طرف نسبت کرنا ، قطعاً درست نہیں، کیونکہ اکابر علماءِ دیوبند نے اس دعا کو جائز اور مستحسن قرار دیا ہےاور اس پر باقاعدہ احادیث صحیحہ سے حوالہ جات بھی بیان کیے ہیں۔ جیسا کہ ذیل میں روایات ملاحظہ ہو:
فی صحیح البخاری : عن محمدقال قالت : ام عطیۃ امرنا ان نخرج فخرج الحیض او العواتق و ذوات الخدور و قال ابن عون و العواتق ذوات الخدور فاما الحیض فیشھدن جماعۃ المسلمین و عورتھم و یعتزلن مصلاّھم اھ( 1/ 134)۔
فی سنن الترمذی : عن ام عطیۃ ان رسول اللہ -صلی اللہ علیہ و سلم- کان یخرج الابکار و العواتق و ذوات الخدور و الحیض فی العیدین فاما الحیض فیعتزلن المصلی ، و یشھدن دعوۃ المسلمین اھ (1/ 70)۔
نیز مذکورہ بالا حوالہ جات سے بخوبی معلوم ہو گیا کہ اس دعا کا مرتبہ اور مقام محض مستحب امر ہے، نہ کہ فرض اور واجب ، اس لیےاس دعا کی غرض سے دوسروں کو زبردستی جمع کرنا وغیرہ بھی مناسب نہیں ،البتہ آنے والے اگر اپنے شوق اور رغبت سے شرکت کرنا چاہتے ہوں تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔