کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص قرآن کی کچھ آیات حفظ کرکے بھول جائے تو شریعت میں اس کی کیا سزا ہے؟ اگر کوئی ہے تو بتائیں۔
قرآن شریف یاد کرکے بھلادینے پر احادیثِ مبارکہ میں بڑی سخت وعیدیں آئی ہیں، چنانچہ ایک جگہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھ پر امت کے گناہ پیش کئے گئے میں نے اس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں پایا کہ کوئی شخص قرآن شریف یاد کرنے کے بعد اُسے بھلا دے۔ (الترغیب والترہیب: ج۲، ص۳۵۹)-
دوسری جگہ ارشاد ہے کہ جو شخص قرآن شریف پڑھ کر بھلادے قیامت کے دن اللہ کے دربار میں کوڑھی حاضر ہوگا۔ اھ (الترغیب والترہیب: ج۲، ص۳۵۹)-
لہٰذا شخصِ مذکور پر لازم ہے کہ اُسے جتنا قرآن بھول چکا ہے اُسے دوبارہ نئے سرے سے یاد کرنے کی بھرپور کوشش کرے چاہے تھوڑا تھوڑا کرکے ہی کیوں نہ ہو اور اب تک جو سستی ہوئی ہے اس پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار بھی کرے۔ واﷲ اعلم
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0