محترم السلام علیکم!
اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کا سایہ تا قیامت ہمارے سروں پر رکھے۔جناب عالی ! اللہ کے فضل سے میں ایک مسلمان ہوں اور مجھ سے کسی نے سوال پوچھا کہ ہدایت کے لیے قرآنِ حکیم ہی کیوں ضروری ہے؟ جب کہ دوسرے مذہب کی کتابوں میں بھی اچھی ا چھی باتیں لکھی ہوئی ہیں؟ براہ ِ کرم آپ سے گزارش ہے کہ میرے سوال کا جواب تفصیل کے ساتھ مجھے جلد از جلد دیں، میں آپ کا ممنون رہوں گا۔
بلاشبہ تمام آسمانی کتابیں ذریعہ ہدایت ہیں اور اپنے اپنے دور میں تورات ، انجیل، زبور اور دیگر صحفِ سماویہ سے لوگوں کو ہدایت ملتی رہی ہے، مگر ان کتب کے ماننے والوں نے ان میں تحریفات کر ڈالیں اور ہدایت کے ان نسخوں میں کمی بیشی کر ڈالی، اس لیے وہ ہدایت کا سبب نہیں ہیں۔ اور قرآنِ کریم اس دور کی کتاب اور ہر قسم کے ردوبدل سے محفوظ ہے، جیسا کہ خود قرآنِ کریم میں بھی اس کی صراحت موجود ہے اور احادیثِ مبارکہ میں بھی کئی ایک مواقع پر قیامت تک کےلیے اسی کے موافق عمل کو لازم قرار دیا گیا، اس لیے بہ نسبت دوسری کتبِ سماویہ کے ،قرآنِ کریم کو ہی ہدایت کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ماہر معالج کسی بیماری کی تشخیص کر کے اور بیمار کے مزاج اور موسم کی مناسبت سے نسخہ بنا کر لکھ دے اور وقت کی بھی تعیین کر دے کہ یہ اس وقت تک کارآمد ہے اور پھر کوئی شخص اس کے مندرجات کو تبدیل کر دے اور اس کے بعد وہ کسی دوسرے مریض کی اسی طرح تشخیص کر کے دوسرا نسخہ تجویز کر دے اور پہلے والے نسخہ کے مفید اجزاء بھی اس میں شامل کرے اور پہلے والے کو تحریف شدہ قرار دے کر اس کی نفی کر دے اور دوسرے والے کو ہی سببِ شفاء قرار دے تو اس پر یہ اعتراض کہ یہی دوسرا نسخہ شفاء کے لیے کیوں ضروری ہے؟ نامعقول کہلاتا ہے اسی طرح قرآن کے متعلق یہ اعتراض بھی ایسا ہی نامعقول ہے، اس لیے بجائے اعتراضات کے ، قرآنِ کریم پر عمل کے ذریعہ حصولِ نجات دارین کی ضرورت ہے۔
قال اللہ تعالی: ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ﴾ (الحجر: 9)-
وفی التفسير المظهري: وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ يا محمد الْكِتابَ القران متلبسا بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِما بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتابِ(الی قولہ) مُھیمناً عَلَيْهِ روى الوالبي عن ابن عباس - رضى الله عنهما - اى شاهدا وهو قول مجاهد (إلی قوله) فما اخبر اهل الكتاب من كتابهم فان كان فى القران فصدقوه والا فكذبوه يعنى ان كان فى القران تصديقه فصدقوه وإن كان فى القران تكذيبه فكذبوه وان كان القران ساكتا عنه فاسكتوا عنه لاحتمال الصدق والكذب من اهل الكتاب۔ (3/ 123)-
وقال اللہ تعالیٰ: ﴿یُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ﴾ (المائدة: 41)-
وفی صحيح البخاري: عن أبي هريرة - رضي الله عنه -، قال: كان أهل الكتاب يقرءون التوراة بالعبرانية، ويفسرونها بالعربية لأهل الإسلام، فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : "لا تصدقوا أهل الكتاب ولا تكذبوهم، وقولوا: ﴿آمنا بالله وما أنزل إلينا}﴾(البقرة: 136) (6/ 20)-
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0