مکروھات نماز

خواتین کو تعلیمِ دین اور اس کے لۓ بنات کے مدارس کے قیام کا حکم

فتوی نمبر :
58812
| تاریخ :
2002-06-19
آداب / تعلیم و تعلم / مکروھات نماز

خواتین کو تعلیمِ دین اور اس کے لۓ بنات کے مدارس کے قیام کا حکم

محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
گزارش یہ کہ اللہ تعالیٰ کا کرم واحسان ہے کہ اس وقت دنیا کے کونے کونے میں دین کی طلب بڑھتی جا رہی ہے اسکول کالج کی تعلیم سے اکثر والدین اپنی اولادوں کو نکال کر دینی مدارس میں دینی تعلیم دلانے کے لیے داخلے دلا رہے ہیں۔
در اصل جیسے جیسے دین کے متعلق لوگوں کی معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے اسی طرح سے اسکول اور کالج کی تعلیم سے نفرت کا جذبہ ابھر رہا ہے۔ جہالت اور کم عملی کی وجہ سے عورتیں شرک وبدعت میں مبتلا ہو کر جعلی پیروں اور جادو کگروں کی راہوں پر چل رہی ہیں۔ دین سے ناواقفیت کی بناء پر مسائل ضرور یہ سے بے خبر ہیں۔ اولاد کی تعلیم و تربیت میں ناکام ہیں جس کی وجہ سے اولادوں میں بھی بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔
اسلام دشمن طاقتین آزادی نسواں کا نعرہ لگا کر عورت کو گمراہ کر رہے ہیں یہودیوں کے چکر میں ایسی خواتین آتی ہیں جو دین سے واقف نہیں جن پر مغرب کا رنگ بہت زیادہ ہے۔
علماءِ کرام نے مسلم خواتین کو مغرب کے دلفریب نعروں سے بچانے کے لیے خواتین کے لیے دینی مدارس کا سلسلہ شروع کیا ہے، الحمد للہ اس کے اثرات نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
تاریخ بغداد ، العقد الثمین، ابن خلکان، اکمال، تہذیب التہذیب، رحلہ ابن بطوطہ، تاریخ مکہ احمد سباعی، شفاء الغرام، تذکرۃ الحفاظ، طبقات ابن سعد، طبقات کبریٰ شعرانی، الکفایہ، ترتیب المدارک ، تاریخ جرجان سہمی، عنوان الدرایہ، الاستیعاب جیسی کتب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں محدثات، عالمات، حافظات، قاریات، مقریات اور مفسریات تھیں بعض خواتین نے اپنی زندگی اور علم کی خدمت کے لیے وقت کر دی تھیں اور نسوانی مدارس قائم کیے۔
آنجناب سے گذارش ہے کہ مندرجہ ذیل سولات کے جوابات عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔
۱۔ عورتوں کو احکامِ شرعیہ کی تعلیم دینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
۲۔ دورِ صحابہ وتابعین اور تبع تابعین میں عورتوں کو دینی تعلیم دینے کے لیے کیا طرزِ عمل اختیار کیا گیا؟
۳۔ موجودہ دورِ پُرفتن میں خواتین کی تعلیم کے لیے رہائشی یا غیر رہائشی مدارسِ دینیہ قائم کرنا جو منکراتِ شرعیہ سے پاک ہوں، کیا حکم رکھتا ہے؟جبکہ ہمارے اکابر حضرت اشرف علی تھانویؒ اور حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ وغیرہ سے مدرسہ البنات کے قیام کا ثبوت بھی ملتا ہے۔
۴۔ عورت کا مفتی بننا اور مدارسِ دینیہ میں ایسی خواتین تیار کرنا جو فقہی بصیرت رکھتی ہوں اور اسی ملکۂ فقہیہ کی بناء پر وہ صرف خواتین کو احکامِ شرعیہ سے آگاہ کرتی رہیں، کیا حکم رکھتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جاننا چاہیے کہ علومِ شریعت کی تحصیل کا مقصد اپنے مالک اور معبودِ حقیقی کو پہنچاننا اور اس کے اَوامر و نواہی پر عمل کرنے کےذریعہ اس کی رضامندی و خوشنوی حاصل کرنا ہے، اور اس مقصد میں مرد اور عورت دونوں برابر کے مخاطب ہیں، جو کئی ایک آیاتِ قرآنیہ میں غور وفکر اور حضراتِ صحابیات اور ان کے بعد کی خواتین کے احوال و سیرت سے بھی بخوبی معلوم ہوتا ہے۔
جیسا کہ بعض صحابیات کے بارے میں آتا ہے کہ استفادۂ علم کی خاطر آپﷺ سے گلے شکوے کیے اور عرض کی کہ ہمارے مقابلہ میں مردوں نے آپ کو گھیر لیا ہے، اپنا ایک دن ہمیں بھی عنایت فرمائیے، چنانچہ آپ نے ان کی درخواست قبول فرمائی اور ایک صحابیہ کے مکان پر تشریف لے گئے، وہاں بہت سی عورتیں جمع ہوگئیں اور آپﷺ نے انہیں احکامِ شریعت کی تعلیم دی۔
اسی طرح ایک مرتبہ آپﷺ نے عید کے موقع پر خطبہ دیا اور پھر خیال آیا کہ عورتیں تو خطبہ نہ سن سکیں، اس لیے آپ عورتوں کے اجتماع کے پاس تشریف لے گئے اور اس خطبہ کو دوبارہ ارشاد فرمایا، پس معلوم ہوا کہ علوم ِ ضروریہ کی تحصیل کی فرضیت اور علومِ مستحبہ کی تحصیل کا استحباب اور علومِ مباحہ کے اکتساب کی اباحت محل تردّد نہیں اور نہ مرد اور عورت کے درمیان امتیاز کرنے کی کوئی وجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضراتِ صحابیات میں سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام اُن صحابہ کرام کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے جو بکثرت فتویٰ کا کام کرتے تھے۔ اس طرح حضرت اُمّ الدرداء، ربیع بنت معوّذ، ام مالک البہزیہ، اُم ہانی بنت ابی طالب اور اُم المؤمنین حضرت میمونہ اور اُم سلمہ رضی اللہ عنہن وغیرہ ایسی صحابیات ہیں جن سے کئی ایک روایات منقول ہیں اور کئی ایک صحابہ اور تابعینِ عظام کو ان سے شرفِ تلمّذ حاصل ہے۔
اسی طرح حضراتِ تابعینِ عظام کی فہرست میں بعض ان خواتین کا ذکر بھی سرفہرست ہوتا ہے جنہوں نے دینِ متین کی آبیاری میں حصہ لیا ہے جن میں سے چند کے اسماءِ گرامی یہ ہیں:
عمرہ بنت عبدالرحمٰن ( یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہیں انہی سے علم حاصل کیا اور پھر ایک بہت بڑی جماعت نے اُن سے روایت کا شرف حاصل کیا) کبشہ بنت کعب، معاذہ بنت عبد اللہ اور المغیرہ جو حجاج بن حسان کی بہن ہیں اور انہوں نے اپنے بھائی کو پڑھایا اور وہی ان سے روایتِ حدیث بھی کرتے ہیں، چنانچہ ان حضرات کے بعد بھی انفرادی طور پر سلسلہ چلتا رہا، موجودہ دور کی طرح باضابطہ بنات کے مدارس اور اس کے لیے الگ سے کوئی انتظام نہیں تھا۔ جس کی نظیر پیش کی جا سکے۔
مگر چونکہ مرد و عورت کے مقصود خلقت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے یہ دونوں تمام اوامر و نواہی میں برابر کے شریک نہیں ،اس بناء پر اور نیز چونکہ عورت کے گھر سے نکلنے میں فتنہ غالب ہے،مزید برآں لوگوں میں وہ خشیتِ الٰہیہ، تقویٰ، طہارت اور پرہیزگاری بھی نہیں رہی جو دورِ اول کے لوگوں میں پائی جاتی تھی، اس لیے بعض اکابر علماء نے بھی خواتین کےلیے باضابطہ رہائشی مدارس قائم کرنے کو پسند نہیں فرمایا۔
البتہ موجودہ دور میں بھی اگر درجِ ذیل امور کی پابندی ملحوظ رکھی جائے تو اس صورت میں کسی خاتون کا باضابطہ مجوّزہ نصاب علومِ دینیہ کی تحصیل کےلیے نکلنا اور پھر ان کی تحصیل کے بعد اس فن میں مہارت و بصیرت حاصل کرنے اور ملکۂ فقہیہ کی تحصیل کی غرض سے مفتی بننا بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے اور وہ امور درجِ ذیل ہیں:
۱۔ لڑکیوں کے مدارس باپردہ اور لڑکیوں کے لیے ہی مخصوص ہونے چاہیے۔
۲۔ جن لڑکیوں کے مدارس درجہ حفظ و ناظرہ کا شعبہ ہو اور بالغ بچیاں بھی زیر تعلیم ہوں تو ان کے مخصوص ایام میں انہیں پڑھائی پر مجبور نہ کیا جاتا ہو جیسا کہ بعض مدارس میں ان ایام کے دوران بھی پڑھائی پر مجبور کرتے ہیں ،یہ ناجائز اور حرام ہے اور اس سے احتراز لازم ہے۔
۳۔ ان کی آمدروفت کے ایسے ذرائع اختیار کیے جائیں کہ ان میں کسی قسم کے فتنہ کا احتمال نہ رہے۔
۴۔ ان کی اصلاح اور تعلیم و تربیت کے لیے نیک و صالح اور دیندار خواتین معلمات کا اہتمام ہو اور اس پر بھی کڑی نگرانی ہوتا کہ طالبات کا وقت ضائع نہ ہو۔
۵۔ اگر بہ مجبوری معلّمات کے بجائے معلمین رکھنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہو تو اس کا باپردہ اہتمام کیا جائے اوردورانِ تعلیم بھی ایسی بے تکلفی قطعاً اختیار نہ کی جائے جو باہم رغبت کا سبب بن سکتی ہو۔
۶۔ اگر کسی طالبہ کے مسائلِ ضروریہ تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اس کے اولیاء کی طرف سے علم میں مزید پختگی، تفقہ اور ماہر معلمین و معلمات کی خدمت میں رہ کر ملکہ راسخہ حاصل کرنے کی اجازت حاصل ہو تو وہ بلاشبہ مزید بھی اس سلسلہ تعلیم کو برقرار رکھ سکتے ہیں، نیز والدین یا سرپرست کی طرف سے اجازت بھی ضروری ہے، مگر واضح ہو کہ یہ سب سلسلہ فرض و واجب نہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ مباح اور فرضِ کفایہ کا اس پر اطلاق کیا جاسکتا ہے، لہٰذا فرض و واجب والا معاملہ اختیار کرنے سے بھی احتراز لازم ہے۔ واللہ أعلم بالصواب

مأخَذُ الفَتوی

ففی صحيح البخاري: حدثنا آدم، قال: حدثنا شعبة، قال: حدثني ابن الأصبهاني، قال: سمعت أبا صالح ذكوان، يحدث عن أبي سعيد الخدري قالت النساء للنبي - صلى الله عليه وسلم -: غلبنا عليك الرجال، فاجعل لنا يوما من نفسك، فوعدهن يوما لقيهن فيه، فوعظهن وأمرهن، فكان فيما قال لهن: «ما منكن امرأة تقدم ثلاثة من ولدها، إلا كان لها حجابا من النار» فقالت امرأة: واثنتين؟ فقال: «واثنتين»2) (1/ 3۲)-
و فی حاشیة صحیح البخاری: (غلبنا عليك الرجال) استفادوا منك أكثر منا لملازمتهم لك وضعفنا عن مزاحتمهم. (يوما) تعلمنا فيه وتخصنا به. (من نفسك) من اختيارك أو من أوقات فراغك. (1/ 3۲)-
وفی صحيح البخاري: قالت عائشة: «نعم النساء نساء الأنصار لم يمنعهن الحياء أن يتفقهن في الدين» اھ(1/ 38)-
و فی الدر المختار: واعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين وهو بقدر ما يحتاج لدينه. وفرض كفاية، وهو ما زاد عليه لنفع غيره. ومندوبا، وهو التبحر في الفقه وعلم القلب. (1/ 42)-
وفی الفتاوى الهندية:(ومنها) حرمة قراءة القرآن لا تقرأ الحائض والنفساء والجنب شيئا من القرآن والآية وما دونها سواء في التحريم على الأصح إلا أن لا يقصد بما دون الآية القراءة مثل أن يقول الحمد لله يريد الشكر أو بسم الله عند الأكل أو غيره فإنه لا بأس به. هكذا في الجوهرة النيرة ولا تحرم قراءة آية قصيرة تجري على اللسان عند الكلام(1/ 38)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58812کی تصدیق کریں
1     4999
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • حرام رقم سےسلوائے ہوئے کپڑوں میں نماز پڑھنےکاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 0
  • آدھی آستین والی شرٹ پہن کر نماز پڑہنا کیسا ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروھات نماز 2
  • جماعت شروع ہونے کے بعد پیشاب شدت سے آجائے تو کیا کریں؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروھات نماز 2
  • بغیر ٹوپی کی نماز یا مسجد کی ٹوپی استعمال کرنا - حالتِ روزہ میں شیو کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 0
  • کیا نقاب اوڑھ کر نماز ادا کی جاسکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 0
  • کیا نماز میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 0
  • کراہت تحریمی سے ادا کی ہوئی نماز کا اعادہ کب واجب ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 5
  • کیا عورت نماز جوڑی دار پاجامے میں پڑھ سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 0
  • آئینہ (شیشہ) کے سامنے کھڑے ہوکر نماز پڑھنا

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 0
  • نماز کی دونوں رکعتوں میں ایک سورت مکرر پڑھی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 0
  • سودی لین دین کرنے والے شخص کی امامت مٰیں نمازپڑھنے کاحکم

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
  • انعمتَ اور انعمتہ نام رکھنا

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 1
  • منفردکابلندآوازمیں تلاوت کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   مکروھات نماز 0
  • ہاف آستین پہن کرنمازپڑھنا

    یونیکوڈ   انگلش   مکروھات نماز 0
  • وضو کے بعد کی مسنون دعا اور انگلی اٹھانا

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
  • مقتدی کادوسراسلام امام سے پہلے پھیرنا

    یونیکوڈ   انگلش   مکروھات نماز 0
  • عمامہ (پگڑی) کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 1
  • سائنس سے اسلام کی حقانیت

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
  • ’’وَلَا الضَّالِّينَ‘‘ کے ضاد کو صاد پڑھاجائے گا یا ضاد؟

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 1
  • حضرت مریم کے ساتھ ’’علیہا السلام‘‘ لکھنا

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
  • ’’۷۸۶‘‘ ہندسے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
  • جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
  • اجتہاد کے شرائط واہلیت

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 1
  • کیا خدا کوئی ایسا بڑا پتھر بنا سکتا ہے جو وہ خود نہیں اٹھا سکتا؟

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
  • سنتوں کے دوران امام صاحب کا منبر پر بیٹھے رہنا

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
Related Topics متعلقه موضوعات