کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے بکر سے قسطوں پر ایک گاڑی خرید لی ’’مثلاً دو لاکھ روپے میں‘‘ زید نے قسطوار ادائیگی کے ذریعہ بکر کو تقریباً ایک لاکھ پچاسی ہزار روپے ادا کردیئے اور ابھی پچاس ہزار باقی ہے، اب بکر زید کو کہتا ہے کہ باقی پچاس ہزار میں سے آپ چالیس ہزار مجھے نقد دے دیں تو دس ہزار روپے میں معاف کردوں گا۔
معلوم یہ کرنا ہے کہ شرعاً یہ معاملہ جائز ہے کہ نہیں؟ اس میں کہیں سود کا گناہ تو لازم نہیں آتا، تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں کیونکہ یہ معاملہ آج کل بہت عام ہے۔ المستفتی: سید واحد صاحب
سوال میں مذکور طریقہ کے مطابق معاملہ کرنا سودی معاملہ کے حکم میں داخل ہونے کی بناء پر ناجائز اور حرام ہے اس طرح کچھ رقم معاف کرکے بقیہ نقد لینے کی شرط ٹھہرانے سے احتراز واجب ہے۔
البتہ اگر غیر مشروط طور پر قرض خواہ اپنے دس ہزار معاف کردے اور قرضدار باقی رقم یکشمت ادا کردے تو یہ صورت بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما قال العلامۃ الجصاص: ومن اجاز من السلف اذا قال: عجّل لی واضع عنک فجائز أن یکون اجازوہ اذا لم یجعلہ شرطًا فیہ، وذالک بان یضع عنہ بغیر شرط ویعجل الأخر الباقی بغیر شرط۔ (ج۱، ص۴۶۷) و اللہ أعلم بالصواب