کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیان ِعظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شیعہ کے گھر کھانا کیسا ہے؟ اور شیعہ کے گھر پر کام کرنا اور ان سے معاوضہ لینا درست ہے یا نہیں؟
کھانا اگر حلال اور پاک ہو تو اس کے کھانے میں حرج نہیں، اسی طرح ملازمت اگر ناجائز امور پر مشتمل نہ ہو تو اسے اختیار کرنے کی بھی گنجائش ہے، البتہ مذکور شیعہ اگر کفریہ عقائد کا حامل ہو اور اس کے گھر کھانا کھانے یا اس کے پاس نوکری کرنے سے اپنے عقائد بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں مذکور دونوں امور سے احتراز ہی چاہیے۔
ففی الفتاوى الهندية: قال محمد - رحمه الله تعالى - ويكره الأكل والشرب في أواني المشركين قبل الغسل ومع هذا لو أكل أو شرب فيها قبل الغسل جاز ولا يكون آكلا ولا شاربا حراما وهذا إذا لم يعلم بنجاسة الأواني فأما إذا علم فأنه لا يجوز أن يشرب ويأكل منها قبل الغسل ولو شرب أو أكل كان شاربا وآكلا حراما الخ (5/ 347) واللہ أعلم بالصواب!