کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام کہ میرے ایک جاننے والے نے مکہ مکرمہ سے فون پر ہنڈی کے کاروبار کے متعلق کہا کہ خضدار کے لیے ہمیں ایک بندہ رقم کی ادائیگی کے لیے چاہیے جس کو دوہزار روپے تنخواہ دینگے، جس کا کام لوگوں کو ان کی رقم پہنچانی ہوگی اس سلسلے میں عرض ہے کہ اکثر ہنڈی کا کام کرنے والے فرض کریں سو(۱۰۰) ریال لے کر مقررہ سرکاری ریٹ سے کچھ زائد ( ۱۰۰+۱۶۰۰) کے حساب سے ادا کرتے ہیں۔ آیا یہ طریقہ صحیح ہے یا غلط ہے؟ اگر غلط ہے تو کیا وجہ ہے؟ اور اگر غلط کاروبار ہے تو ان کی ملازمت کا کیا حکم ہے؟ ہنڈی کا لین دین کرنے والے رقم لیکر اس رقم سے کاروبار کرتے ہیں ان کا یہ عمل کیا حکم رکھتا ہے؟
ہنڈی کا کاروبار فی نفسہ جائز ہے بشرطیکہ کہ بوقتِ عقد کسی ایک جانب سے مجلس ہی میں رقم پر قبضہ ہوجائے، مگر مروجہ ہنڈی کا کاروبار شرعاً ممنوع ہے، اولاً تو اس وجہ سے کہ اس میں معاملۂ قرض، مشروط بالشرط ہوتا ہے اور یہ جائز نہیں، اور ثانیاً اس بناء پر کہ یہ قانوناً منع ہے اور حکومت کے ہر اس قانون پر عمل لازم ہے جو کسی حکمِ شرعی کے خلاف نہ ہو، لہٰذا شخص مذکور پر لازم ہے کہ مذکور کاروبار شروع کرنے اور اس کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدنی استعمال میں لانے سے احتراز کرے۔
ففی الدر المختار: وكرهت السفتجة) بضم السين وتفتح وفتح التاء، وهي إقراض لسقوط خطر الطريق الخ
و فی رد المحتار: وفي الفتاوى الصغرى وغيرها: إن كان السفتج مشروطا في القرض فهو حرام، والقرض بهذا الشرط فاسد وإلا جاز. (5/ 350) واللہ اعلم باالصواب