السلام علیکم
میرا ایک سوال ہے جس میں مجھے قرآن و سنت کی روشنی میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔
میرے شوہر نے مجھے مارچ 2019 میں میرے والدین کے گھر بھیجا اور تب سے میں اپنے والدین کے ساتھ ان کے گھر رہ رہی ہوں , اس دوران ہمارا ایک بیٹا پیدا ہوا , یہاں تک کہ وہ اسے ہسپتال میں دیکھنے بھی آیا لیکن مجھے واپس گھر نہیں لے گیا , اس نے کبھی میرے یا ہمارے بیٹے کے لئے پیسے نہیں بھیجے , میں اور میرے والدین ہی اپنے بیٹے کی دیکھ بھال کر رہے ہیں , میں اور میرے گھر والوں نے اس سے بات کرنے کی کئی بار کوشش کی لیکن وہ کبھی نہ آیا اور نہ ہی ہم سے رابطہ کیا , اس نے یہاں تک کہا کہ اگر تم چاہو تو خلع لے سکتی ہو مگر میں طلاق نہیں دونگا , آخر کار میں نے عدالت کے ذریعے خلع کی درخواست دی , اس دوران میں نے اسے عدالتی کاغذات بھی بھیجے جو اس نے دیکھے بھی لیکن کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا , عدالت کی جانب سے 3 نوٹس بھیجنے کے باوجود وہ ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے , کچھ دن پہلے اس نے اچانک مجھے میسج کیا اور مجھ سے بات کرنے کو کہا ,جس پر میں راضی ہوگئی , اس نے مجھ سے خلع واپس لینے کو اور واپس آنے کو کہا , میں نے کہا ہاں ٹھیک ہے، میں تیار ہوں لیکن میں آپ کو اور اپنے خاندان کو مثبت بحث کے لئے شامل کرنا چاہوں گی تا کہ ہمیں مستقبل میں کوئی پریشانی نہ ہو , اس نے اہلِ خانہ کی شمولیت پر اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ اگر تم چاہو تو اس طرح آجاؤ , میں نہ آؤں گا نہ کسی سے بات کروں گا , 3 سال انتظار کیا ، منتیں کی اور اب سب کچھ بھول کہ پھر سے راضی بھی ہوئی مگر کوئی گارنٹی دینے کو تیار نہیں, میں اگلے 1-2 ہفتوں میں عدالت سے اپنی خلع کی ڈگری حاصل کر لوں گی۔
میرے سوالات ہیں کہ:
1۔کیا یہ خلع حلال ہو گا ؟ یا مجھے ساری زندگی اسی طرح اکیلے گزارنی پڑے گی؟ کیونکہ وہ اب مجھے پریشان کر رہا ہے اور جان بوجھ کر چاہتا ہے کہ مجھے لٹکا کے رکھا جائے۔
2.جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ، اب 3 سال اور 4 ماہ ہوچکے ہیں اور میرا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور میں اپنے والدین کے ساتھ رہ رہی ہوں , کیا مجھے خلع کے بعد عدت کرنی ہوگی ؟ اگر ہاں تو کب تک ؟ میں آپ کے فوری جواب کے لئے بہت شکر گزار ہوں گی ,اللہ آپ کو جزائے خیر دے -
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی طرح دروغ گوئی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو , بایں طور کہ سائلہ کے شوہر نے 2019 سے سائلہ کو والدین کے گھر بھیجا ہوا ہو ،اور واپس لیجانے پر رضامند نہ ہو تو سائلہ کو چاہئیے کہ دونوں خاندان کے بڑے بزرگ حضرات کو بٹھاکر نباہ کی کوئی صورت نکالی جائے ، تاہم اگر نباہ ممکن نہ ہو تو شوہر کو چاہئیے کہ بیوی کو طلاق دےکر فارغ کرے ،لیکن سائلہ کیلئے کورٹ سے خلع لینا درست نہیں ،کیونکہ خلع کیلئے میاں بیوی کی رضامندی شرط ہے ، جو کہ عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتی ہے ،اس لئے خلع کی ڈگری جاری ہونےکے باوجود نکاح ختم نہیں ہوتا ، لہذا مذکور ڈگری کے جاری ہونےکے بعد سائلہ پر عدت گزارنا لازم نہیں ،اور نہ ہی کسی دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ،لیکن اگر شوہر سائلہ کو طلاق نہ دے یامہر وغیرہ کے عوض خلع پر بھی راضی نہ ہو تو سائلہ کورٹ میں تنسیخِ نکاح کا کیس دائر کرکے شوہر سے خلاصی حاصل کرے -
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1