السلام علیکم مفتی صاحب!ایک آدمی پاکستان میں ہے، جو لوگوں کا کام”جن“کے ذریعہ کرواتا ہے،”جن“کو حاضر کر کے پوچھ کر بتاتا ہے کہ آپ پر کوئی جادو، اثر یا بندش وغیرہ ہے کہ نہیں، بظاہر وہ غریب ہے،لیکن پیسے بھی لیتا ہے ہزاروں میں یہ کہہ کر کہ”جن“کو دینے پڑھتے ہیں، کیا اسلامی لحاظ سے اس سے پوچھنا یا کوئی جائز کام کروانا صحیح ہے؟ اور کیا واقعی جنات کو پیسوں وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے؟
کسی بھی عامل کا خواہ مالدار ہو یا غریب صحیح تعویذ بنا کر دینے پر اجرت لینا جائز ہے، مگر جنات کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے، قطعاً غلط اور عوام الناس کو دھوکہ دیکر ان سے پیسے بٹور نے کے علاوہ کچھ نہیں، جبکہ جنات عالم الغیب بھی نہیں ہوتے اور انہیں بھی کسی مخفی چیز کا علم نہیں ہوتا، بلکہ یہ چیزیں محض تخمینی ہوتی ہیں، ان کے سچا ہونے کا اعتقاد درست نہیں، جس سے احتراز چاہیے۔
کما في الشامية: ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى، (إلی قوله) إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك اھ (6/ 363)
وفي الهندية: واختلف في الاسترقاء بالقرآن نحو أن يقرأ على المريض والملدوغ أو يكتب في ورق ويعلق أو يكتب في طست فيغسل ويسقى المريض فأباحه عطاء ومجاهد وأبو قلابة وكرهه النخعي والبصري كذا في خزانة الفتاوى اھ(5/ 356)