جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
میرا سوال یہ ہے کہ زید کے ایک عزیز آن لائن کپڑے کا کاروبار کرتے ہیں ؟ اگر زید کچھ کپڑے خرید کر ان کو فروخت کرنے کے لئے دے یعنی قیمت خرید میں اپنا نفع جمع کر کے انہیں کہےکہ آپ مجھے اس آئٹم کی یہ قیمت دیں ، آگے آپ جتنے میں مناسب سمجھیں اس قیمت پر فروخت کر دیں ،( اس سے زید کا کوئی سروکار نہیں ہوگا) جو نہ بک سکے وہ زید کو واپس کر دیں ، یعنی ان کا کوئی نقصان نہیں ہو گا؟ (مثال کے طور پر 500 روپے میں سوٹ خرید کر اس پر 100 روپے منافع جمع کر کے کہا آپ مجھے جب یہ فروخت ہو جائے تو 600 روپے ادا کریں، اور اگر فروخت نہ ہو تو سوٹ واپس کر دیں ) زید کا اس طرح کاروبار کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو اس کی بہترین صورت کیا ہو سکتی ہے ؟ شکریہ
واضح ہو کہ شرعی نقطہ نظر سے کسی چیز کی فروختگی کے لئے دوسرے شخص کو متعین کرنا " توکیل بالبیع " کہلاتا ہے، اور توکیل بالبیع میں اگر وکیل اجرت پر یہ کام کر رہا ہو تو اس کے لئے پہلے سے اجرت متعین کرناضروری ہے،لیکن سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق زید کے لئے اس کے عزیز کی طرف سے کپڑے فروخت کرنے پر چونکہ کوئی اجرت متعین نہیں، اس لئے شرعاً اس طرح کا معاملہ کرنا درست نہیں ، البتہ زید کا رشتہ دار اگر زید کے لئے کپڑے فروخت کرنے پر فی جوڑا کے حساب سے کوئی اجرت ( مثلاً دس روپے فی جوڑا) متعین کر دے ،تو ایسی صورت میں شرعا ًیہ معاملہ جائز ہو گا، پھر مقررہ قیمت (600) سے زیادہ قیمت میں سوٹ فروخت ہونے پر زید کارشتہ داروہ اضافی رقم بھی زید کے حوالے کر ے گا ۔
جبکہ اس معاملے کی جواز کی دوسری صورت یہ ہے کہ زید اپنے رشتہ دار کو اپنے منافع رکھ کر با قاعدہ کپڑے فروخت کر دے، پھر وہ ان کپڑوں کو اپنے قبضے میں لانے کے بعد اپنا منافع رکھ کر فروخت کر دے، چنانچہ ایسا کرنا بھی شرعاً جائز ہو گا، البتہ اس دوسری صورت میں اگر زید کے رشتہ دار کو تجارت میں نقصان ہوا،یا اس کے کپڑے فروخت نہ ہوئے تو زیدپر اس کی ذمہ داری عائد نہ ہوگی، اور نہ ہی اس کے لئے کپڑے واپس لینا لازم ہو گا۔
کما في شرح المجلة لسليم رستم باز:اذا اشترطت الاجرة في الوكالة ، وأوفاها الوكيل استحق الاجرة - قال الشارح: اطلاقه يدل على انه لا فرق فيما اذا وقت وقتا معلوما لايفاء الوكالة اولا وان لم تشترط ، ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالاجرة كان متبرعا فليس له ان يطالب بالاجرة، وأما إذا كان ممن يخدم بالاجرة فله أجر مثله لأن المعروف عرفا كالمشروط شرطا اھ ( المادة : 1467 ، 2 / ۶۱۷)۔
و في خلاصة الفتاوى: رجل دفع إلى رجل ثوبا وقال بعه بعشرة فما زاد فهو بيني وبينك قال أبو یوسف إن باعه بعشرة أولم يبعه فلا أجر له وإن اتعب في ذالك،
وإن باعہ باثني عشر أو أکثر أو أقل فلہ أجر مثل عملہ إذا أتعب في ذلک؛ لأنہ عمل بإجارة فاسدة، فیستحق الأجر۔ قال القاضي الإمام : وھذا أصح وبہ یفتی؛لأن الأجر مقابل بالبیع دون مقدماتہ إن کان المعقود علیہ البیع دون السعي (کتاب الإجارات، الفصل الخامس فی الاستصناع والاستیجار علی العمل، ص:126ج3، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0