السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
محترم مفتی صاحب ! میرا نام قدرت اللہ شہاب ہے، میرا ایک ایزی پیسہ شاپ ہے ، میں اس پر کام کرتا ہو ں ،اور ایزی پیسہ کاکام کرتا ہو ں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم جو ایزی پیسہ وصول کرتے ہیں ،یا بھیجتے ہیں، اس پر کمپنی کا اپنا ٹیکس ہے ، جو کہ معلوم ہے کسٹمر کو اور دوسری طرف جو کمیشن ملتا ہے ،وہ بہت کم ہے ، اب ہم اس طرح کرتے ہیں کہ جب کوئی مثال کہ طور پر پیسے وصول کرتا ہے پچاس ہزار ، تو ہمارے پاس اب دو سسٹم موجود ہیں ، ایک ہے کمپنی کا سسٹم جو کہ ہم پچاس ہزار روپے وصول کرتے ہیں، تو سسٹم سے کمپنی اس کا کٹوتی کرتا ہے ،پچاس ہزار کے پیچھے 700 روپے ، اور ہمارا کمیشن 80 روپے في پچاس ہزار ، اور یہ جو دوسرا سسٹم ہے ،وہ یہ ہے کہ ہم وہ پچاس ہزار روپے کسٹمر کے اکاؤنٹ سے اپنے بینک اکاؤنٹ پر بھیجتے ہیں، جو کہ بالکل فری جاتا ہے بینک اکاؤنٹ میں ، اس پر کوئی چارجز نہیں ہے ،اور وہ ساتھ سو 700 روپے ہم کو بچتے ہیں ؟ تو کیا یہ جائز ہے ہمارے لئے ؟ جزاک اللہ
سائل کا ایزی پیسہ سسٹم کے بجائے کسٹمر کے اکاؤنٹ سے یہ رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر کے اس کے بدلے کم رقم دینا شرعاً جائز نہیں، اسلئے سائل کو چاہیئےکہ ایزی پیسہ سسٹم کے توسط سے ہی یہ معاملات سر انجام دیا کرے۔
كما في التنزيل العزيز: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (آل عمران: 130)-
وفي الرد المحتار: وشرعاً تمليك نفع مقصود من العين بعوض، اھ (۶/۴)-
وفى النتف في الفتاوى: والإجارة لا تخلو من وجهين، أما أن تقع على وقت معلوم أو على عمل معلوم، اھ (338)-