السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب میں نے آپ سے ایک فتوی پوچھنا ہے کہ میں ڈسٹرکٹ کورٹ میں سرکاری ملازم ہوں اور یہاں ہمارے وکیل صاحبان سے تعلق ہے، پوچھنا یہ ہے کہ جب کوئی مؤکل یا ہمارا جاننے والا آتا ہے تو ہم وکیل کو ان کا کیس دے دیتے ہیں اور وکیل اس کے بدلے میں ہمیں کچھ کمیشن دیتا ہے، اپنی فیس میں سے کہ آپ نے مجھے مؤکل حوالے کیا ہے،اس لیے یہ آپ کا حصہ ہے، تو کیا یہ حلال ہوگا یا حرام ؟ مہربانی فرما کر اس سے آگاہ کردیں۔
سائل کے لئے فقط وکیل سے ملوانے یا اس کا پتہ بتانے کی بناء پر کمیشن لینا درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے، البتہ سائل کو اگر مؤکل تلاش کرنے میں محنت کرنی پڑتی ہو اور سائل کمیشن پر کام کرنے میں مشہور ہو یا پہلے سے طے کرے کہ میں آپ کو مؤکل دے دوں گا مگر میں آپ سے اس کی اجرت لوں گا تو ایسی صورت میں کمیشن لینا درست ہوگا، بشرطیکہ اس مقدمہ کی پیروی کرنا شرعاً جائز ہو اور اس کمیشن کی وجہ سے وکیل مؤکل سے زیادہ فیس کا مطالبہ نہ کرے۔
کما فی رد المحتار: قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام الخ (6/63)۔