بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہمارے ملک میں آن لائن بزنس کی ایک نئی ٹریڈیشن شروع ہوئی ہے ، دیکھنے میں وہ بیعِ سلم کی قریب قریب ہے۔ معاملہ ان کا ایسا ہے کہ بعض چیزوں میں وہ ٪30 ،٪40ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں بشرطیکہ مبیع ایک مہینہ کے بعد دیا جائے، پھر جب مشتری کوئی چیز تعیین کرکے اس کا ثمن دیدیتا ہے اور مہینہ پورا ہونے کے بعد ان کے پاس وہ چیز باقی نہ رہی، یا ان کی طرف سے کسی بھی حادثے کے لئے وہ مبیع دینے سے رجوع کرتے ہیں تو وہ مشتری کو وہ ثمن لوٹا دیتے ہیں جو اس مبیع کی فی الحال بازاری ثمن ہے، یعنی M.R.P. Refund ہے
اب پوچھنے کی بات یہ ہے کہ ایسا کاروبار جائز ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو دیکھنے میں تو ثمن سے زیادہ جو دیا وہ سود کی طرح ہے، تو وجہ کیا ہے؟
اور حضرت مفتی صاحب کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ایسا لین دین اب سارے ملک میں بہت ہی زیادہ شائع ہو چکاہے ۔
سائل نے مذکور کار و بار کی تمام شرائط اور مکمل تفصیل ذکر نہیں کیں ، تاکہ اسکو دیکھ کر کوئی حکم لگایا جاتا، تاہم سائل نے مذکور کار و بار کی جو صورت سوال میں نقل کی ہے ، اس میں چونکہ وقتِ مقررہ پر ، مشتری (رب السلم) کو مبیع ( مسلم فیہ ) حوالہ نہیں کی جاتی، بلکہ اسکی بازاری قیمت دی جاتی ہے ، اس لئے شرعاً یہ صورت جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
كما في الدر المختار: (وحكمه ثبوت الملك للمسلم إليه ولرب السلم في الثمن والمسلم فيه) فيه لف ونشر مرتب (ويصح فيما أمكن ضبط صفته) كجودته ورداءته (ومعرفة قدره كمكيل وموزون و) خرج بقوله (مثمن) الدراهم والدنانير لأنها أثمان فلم يجز فيها السلم خلافا لمالك (إلی قوله( (وشرطه) أي شروط صحته التي تذكر في العقد سبعة (بيان جنس) كبر أو تمر (و) بيان (نوع) كمسقي أو بعلي (وصفة) كجيد أو رديء (وقدر) ككذا كيلا لا ينقبض ولا ينبسط (وأجل وأقله) في السلم (شهر) به يفتى وفي الحاوي لا بأس بالسلم في نوع واحد على أن يكون حلول بعضه في وقت وبعضه في وقت آخر اھ (5/ 209)۔
وفي الهداية شرح البداية: قال ولا يجوز السلم حتى يكون المسلم فيه موجودا من حين العقد إلى حين المحل حتى لو كان منقطعا عند العقد موجودا عند المحل أو على العكس أو منقطعا فيما بين ذلك لا يجوز اھ (3/ 72) ۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0