السلام علیکم!امید کرتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہونگے،ایک مسئلہ میں آپ کی رہنمائی درکارہے،جیسا کہ میں پہلے قطر میں مقیم تھا،اور آپ سے کئی مسائل میں رہنمائی حاصل رہی،اب دراصل میں آئرلینڈ منتقل ہوگیا ہوں،یہاں مجھے ایک مسئلہ در پیش آگیا ہے،برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں،مسئلہ:میری رہائش آئرلینڈ میں ہے،یہاں نہ اذان ہوتی ہے،اور نہ نماز کے لیے مساجد ہیں،میرے گھر سے کوئی تقریباً 20/18 کلو میٹر کے فاصلے پر ہوگی، ہمیں نماز اوقات کے مطابق پڑھنی ہوتی ہے،جویہاں کے حساب کے مطابق ہوتے ہیں،جیسا کہ رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا ہے،ہم باقاعدگی سے سحر وافطار اوقات کے مطابق کررہے ہیں،لیکن 2 دن پہلے اوقات کی غلط فہمی کی وجہ سے ہم نے سحر کا وقت ہونے کے 2 منٹ بعد پانی پیکر روزے کی نیت کرلی،بعد میں پتہ چلا کہ وقت 2 منٹ پہلے ہی ختم ہوچکا ہے،اس کے لیے کیا حکم صادر ہوتا ہے،کیا مجھے روزہ دوبارہ رکھنا پڑے گا؟برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں!
صورتِ مسئولہ میں سحر کا وقت ختم ہوجانے کے بعدغلط فہمی کی بنا پرسائل کا پانی پینے سے سائل کے اس دن کا روزہ درست نہیں ہوا،لہذا سائل پر روزہ کی فقط قضا لازم ہے۔
كما في اللباب في شرح الكتاب: ومن تسحر وهو يظن أن الفجر لم يطلع أو أفطر وهو يرى أن الشمس قد غربت ثم تبين أن الفجر كان قد طلع،أو أن الشمس لم تغرب قضى ذلك اليوم ولا كفارة عليه اھ (83/1)
وفي الجوهرة النيرة: (قوله ومن تسحر وهو يظن أن الفجر لم يطلع أو أفطر وهو يرى أن الشمس قد غربت ثم تبين أن الفجر قد طلع أو أن الشمس لم تغرب قضى ذلك اليوم ولا كفارة عليه)فقوله يرى بضم الياء من الرأي لامن الرؤية أي يظن ظنا غالبا قريبا من اليقين حتى لو كان شاكا أو أكثر رأيه أنها لم تغرب الشمس تجب الكفارة ثم إذا تسحر وهو يظن أن الفجر لم يطلع فإذا هو قد طلع أو أفطر وهو يرى أن الشمس قد غربت ثم تبين أنها لم تغرب أمسك بقية يومه قضاء لحق الوقت فقد تضمنت هذه المسألة خمسة أحكام: أحدها أنه يفسد صومه والثاني أن عليه القضاء لأنه فوت الادا،والثالث أنه لا كفارة،والرابع أنه يمسك بقية يومه،والخامس أنه لا إثم عليه لقوله تعالى (وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به) اھ(59/2)۔