جناب عالی
میں نے مولانا مودودی کی ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ:
1: امام ابو حنیفہ ( یا دوسرے قابلِ عزت امام) زندگی میں درود شریف بس صرف ایک بار کافی سمجھتے ہیں۔
2: امام ابو حنیفہ نماز کی دوسری رکعت میں درود پاک غلطی سے پڑھ جائیں التحیات کے بعد تو سجدۂ سہو لازم ہو جاتا ہے۔
پلیز رہنمائی فرمائیں۔۔
واضح ہو کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک زندگی میں کم از کم ایک بار درود شریف پڑھنا فرض ہے، اور یہ ایساہی ہے، جیسا کہ کلمۂ توحید اور نبی ﷺ کی تصدیق کرنا، جبکہ اس کے علاوہ اگر کہیں نبی پاک ﷺکا نام مبارک آ جائے ،تو اس وقت اس مجلس میں درود شریف پڑھنا واجب ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص زندگی میں ایک مرتبہ درود شریف پڑھ لے ،تو اس کا فرض ادا ہو جائیگا، مگر اس کا یہ مطلب ہزگز نہیں کہ فقط ایک دفعہ درود شریف پڑھنا کافی ہے ، بلکہ درود شریف دنیا و آخرت کی بہت ساری بھلائیوں کا باعث اور مستقل دعا ہے ، جبکہ ایک مرتبہ درود شریف پڑھنے سے اللہ تعالی کی طرف سے دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں ، اس لئے آپ ﷺ پر جتنا ممکن ہو سکے درود شریف پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیئے۔
جبکہ سجدۂ سہو کے واجب ہونے کے اصولوں میں سے یہ بھی ہے کہ نماز کا کوئی واجب چھوٹ جائے، یا فرض میں تاخیر ہو جائے ،تو اس سے سجدۂ سہو لازم ہو جاتا ہے، اور چونکہ چار رکعت والی نماز میں درود شریف پڑھنے سے فرض ( تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہونے) میں تاخیر ہو جاتی ہے، اس لئے اس سے سجدۂ سہو واجب ہو جاتا ہے۔
کما في أحكام القرآن للجصاص: وقوله يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه قد تضمن الأمر بالصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم وظاهره يقتضي الوجوب وهو فرض عندنا فمتى فعلها الإنسان مرة واحدة في صلاة أو غير صلاة فقد أدى فرضه وهو مثل كلمة التوحيد والتصديق بالنبي صلى الله عليه وسلم متى فعله الإنسان مرة واحدة في عمره فقد أدى فرضه اھ (5/ 243)۔
و في الدر المختار:(وتأخير قيام إلى الثالثة بزيادة على التشهد بقدر ركن) وقيل بحرف. و في الزيلعي: الأصح وجوبه باللهم صل على محمد (2/ 81)۔
و في الدر المختار: (وهي فرض) عملا بالأمر في شعبان ثاني الهجرة (مرة واحدة) اتفاقا (في العمر) فلو بلغ في صلاته نابت عن الفرض نهر بحثا. (إلی قوله) (واختلف) الطحاوي والكرخي (في وجوبها) على السامع والذاكر (كلما ذكر) - صلى الله عليه وسلم – اھ (1/ 515)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله تكراره أي الوجوب) قيد القرماني في شرح مقدمة أبي الليث وجوب التكرار عند الطحاوي بكونه على سبيل الكفاية لا العين، وقال: فإذا صلى عليه بعضهم يسقط عن الباقين، لحصول المقصود وهو تعظيمه وإظهار شرفه عند ذكر اسمه - صلى الله عليه وسلم -. اهـ. (1/ 516)۔
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0