آن لائن سونے کا کاروبار بروکر کے ذریعے (leverage) کی بنیاد پر کرنا حلال ہے یا حرام ؟ جبکہ اس میں نفع اور نقصان دونوں شامل ہوتے ہیں،لیکن یقینی نہیں ہوتے، کیا یہ سود میں شامل ہے کہ نہیں ؟Please guide.
واضح ہو کہ آن لائن گولڈ ٹریڈنگ ( فاریکس ٹریڈنگ ) بھی سود اور قمار ہی کی ایک قسم ہے، جس میں عام طور پر خرید و فرخت مقصود نہیں ہو تا، بلکہ فرق برابر کر کے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ قبضہ کے بغیر ہی وہ چیز آگے بیچ دی جاتی ہے، جو شرعاً جائز نہیں، اس لیے عام حالات میں یہ کاروبار قطعاً درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، اور شریک ہو جانے کی صورت میں بھی فوراً ایسے کاروبار سے الگ ہونا لازم ہے ، تاہم اگر کسی شخص کا کوئی وکیل اس طرح کے سامان (سونے) وغیرہ پر قبضہ کر کے آگے فروخت کر دے تو بلا شبہ اس کا نفع حلال ہو گا، مگر اس کاروبار میں عموماً ایسا نہیں ہوتا، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔
كما في سنن ابن ماجه: عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه» ، قال أبو عوانة في حديثه: قال ابن عباس: وأحسب كل شيء مثل الطعام اھ (2/ 749) ۔والله اعلم بالصواب!