السلام علیکم ! ایک دوست نے اس سال حج کی نیت کی ہے ،لیکن اس بچارے کے سارے جسم پر جو ئیں رہتی ہیں، وہ جو ئیں اس کے کپڑوں میں ہر وقت رہتی ہیں،اور ہر جگہ کا ٹتی ہیں ، اس کے گھر کی تمام اشیاء میں جوئیں پڑھ گئی ہیں ، جیسے کمبل، رضائی، چادریں، صوفہ ، میٹرس ، اب وہ دوائیوں کا استعمال کر رہا ہے ،اور اسپرے بھی کرواتا ہے ، مگر مکمل خاتمے کی صورت نظر نہیں آرہی ، اب وہ پوچھ رہا ہے کہ کیا احرام باندھ کر شیو کرسکتا ہوں ؟ اور دوائی اپنے جسم پر لگا سکتا ہوں اور احرام اور باقی کپڑے دوائی میں بھگو سکتا ہوں یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کو چاہیئے کہ قبل از احرام اپنے سر کے بال مکمل صاف کر کے صاف ستھرا احرام پہنے ان شاء اللہ جوئیں باقی نہیں رہیں گی ، اس کے باوجود بھی اگر اندیشہ ہو تو شیو نہیں کرسکتا ، دوائی اپنے جسم پر استعمال کرنے یا احرام کو دوائی والے پانی میں بھگونے کی گنجائش ہے اور اس سے دم وغیرہ کچھ بھی لازم نہیں ہوگا ۔
کما فی صحیح البخاری : عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " خالفوا المشركين: وفروا اللحى، وأحفوا الشوارب " اھ (7/160)۔
و فی الرد : وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد اھ (2/348)۔
و فیه أیضاً تحت : (قوله بعذر) قيد للثلاثة وليست الثلاثة قيدا، فإن جميع محظورات الإحرام إذا كان بعذر ففی الخيارات الثلاثة كما فی المحيط قهستاني، وأما ترك شيء من الواجبات بعذر فإنه لا شيء فیه على ما مر أول الباب عن اللباب وفیه: ومن الأعذار الحمى والبرد والجرح والقرح والصدع والشقيقة والقمل، ولا يشترط دوام العلة ولا أداؤها إلى التلف بل وجودها مع تعب ومشقة يبيح ذلك اھ (2/557)۔