السلام علیکم !
میں سعودیہ میں رہتا ہوں ،اور میری بیوی گھر سے بچوں کی کتابوں کا جائز کاروبار کرنا چاہتی ہے، مگر ہمیں پتہ نہیں ہے کہ یہاں یہ گھر کا ابتدائی کاروبار رجسٹر کرایا جائے یا نہیں؟ کیونکہ کاروبار چھوٹا ہے ،اور گھر سے ہی اس حکومت کو بتائے بغیر یہ چھوٹا کاروبار حلال ہے یا حرام؟ کیونکہ یہاں سب ہی ایسے کر رہے ہیں ،مگر کسی عالم سے پوچھے بغیر میرا دل نہیں مان رہا ہے۔
اگر حکومت کی طرف سے غیر رجسٹر ڈ کاروبار پر پابندی نہ ہو تو حکومت کو بتائے بغیر ایسے چھوٹے کاروبار کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
قال للہ تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: وأجمع المسلمون على جواز البيع، والحكمة تقتضيه؛ لأن حاجة الإنسان تتعلق بما في يد صاحبه، وصاحبه لا يبذله بغير عوض، ففي تشريع البيع طريق إلى تحقيق كل واحد غرضه ودفع حاجته، والإنسان مدني بالطبع، لايستطيع العيش بدون التعاون مع الآخرين.والأصل في البيوع الإباحة اھ (5/ 3307)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0