برائے مہربانی پے سلیش کمپنی میں انوسمنٹ کے بارے میں رہنمائی کریں، کیا اسلام میں" پے سلیش" میں انوسمنٹ جائز ہے ؟
ہماری معلومات کے مطابق "پے سلیش کمپنی" کا اصل کاروبار جس کے لئے وہ لوگوں کو ممبر بننے کی دعوت دیتی ہے ،اشتہارات دیکھ کر کمانا ہے (چاہے ممبر شپ انویسٹمنٹ میں ہو یا نیٹ ورک مارکیٹنگ میں ہو)، جس میں شرعی اعتبار سے کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں:
۱۔اشتہارات دیکھنا کوئی ایسا عمل نہیں، جسے اجارہ کا معقود علیہ قرار دیا جا سکے ، اور اشتہارات دیکھنے والے ممبر کو اس پر اجرت کا مستحق ٹھہرایا جا سکے۔
۲۔ بہت سے اشتہارات غیر شرعی امور پر بھی مشتمل ہوتے ہیں۔
۳۔ مصنوعی طریقہ سے ویورز کی تعداد کو بڑھا کر دکھایا جاتا ہے، جو کہ دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔
لہذا اس کمپنی کا ممبر بننا اور کسی دوسرے کو اس کا ممبر بننے کی دعوت دینا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدر : (هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به يقال أعظم الله أجرك. وشرعا تمليك نفع مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية وسيجيء اھ.
وفي الرد: تحت (قوله مقصود من العين أي في الشرع ونظر العقلاء بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل اھ . (۶/۴)-
وفي البدائع : (ومنها : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد یقتضي تحقق الشرکة فی الربح والتعیین یقطع الشرکة لجواز أن لا یحصل من الربح إلا القدر المعین لأحدھما، فلا یتحقق الشرکة فی الربح اھ (۶/ ۵۹)۔
وفی فقه البیوع: إن کان بیع المنتج مشروطا بأن یدخل المشتری في شبکة التسویق، فھذا البیع فاسد، لاشتراط ما لا یقتضیه العقد اھ (۲/ ۸۱۲) -
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0