السلام علیکم مفتی صاحب!
ایک دینی مسئلے کے سلسلے میں آپ سے رہنمائی درکار ہے، میرے خاوند نے دسمبر 2018ء میں ایک قادیانی لڑکی کے ساتھ قادیانی عقیدے کے مطابق نکاح کیا اور بقولِ خود وہ خود بھی قادیانی ہو گئے،ہم نے اس وقت کچھ مفتی صاحبان سے رابطہ کیا جنہوں نے ہمیں بتایا کہ اگر وہ شخص قادیانی ہو چکا ہے تو میری اس وقت سے طلاق واقع ہوچکی ہے،یہ جاننے کے بعد میں بچوں سمیت اپنے والدین کے گھر آگئی، پھر اس نے چھ ماہ بعد ایک اسٹامپ پیپر پر دو گواہوں کی موجودگی میں کہا کہ میں اس قادیانی لڑکی کو طلاق دیتا ہوں اور اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کیا، میں ابھی تک گذشتہ ڈیڑھ سال سے اپنے والدین کے گھر میں رہ رہی ہوں، مجھے کئی موقعوں پر اس شخص کے قول و فعل میں کافی تضاد معلوم ہوا ہے، جس کی وجہ سے میں ان کے ساتھ دوبارہ تجدیدِ نکاح نہیں کرنا چاہتی ہوں، کئی موقعوں پر مجھے اطلاعات ملی ہیں کہ یہ شخص ابھی تک اس قادیانی لڑکی کے ساتھ مسلسل رابطے میں موجود ہے میرا سوال یہ ہے کہ :
1. اس شخص کے قادیانی عقیدہ اختیار کرنے کے بعد کیا شرعی طور پر طلاق واقع ہو چکی تھی ؟
2. کیا میرے نا چاہتے ہوئے بھی مذہبی طور پر وہ شخص مجھے پابند کر سکتا ہے کہ میں اس کے ساتھ دوبارہ تجدید نکاح کروں ؟
سائلہ کا شوہر اگر واقعۃً قادیانی ہو چکا تھا تو اس کے قادیانی ہوتے ہی وہ مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہو چکا ہے، اور اسی وقت سائلہ کا اپنے شوہر سے نکاح فسخ ہو چکا تھا اور اس کے ذمے عدت بھی لازم ہو چکی تھی جس کے بعد وہ کسی بھی جگہ عقد نکاح کرنے میں شرعا آزاد ہے، جبکہ شوہر دوبارہ اسلام قبول کر لینے کے بعد اپنی سابقہ بیوی (سائلہ ) کو دوبارہ نکاح پر مجبور یا پابند نہیں کر سکتا، سائلہ عدت کے بعد کہیں اور بھی نکاح کر سکتی ہے۔
كما في الدر المختار: (وارتداد أحدهما) أي الزوجين (فسخ) فلا ينقص عددا (عاجل) بلا قضاء۔اھ (3/194)
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1