حضرت کیا آن لائن کار و بار پے کمائی حلال ہے؟ جیسے پر پال / پائیلاش ہے ایڈ خرید کے دیکھنا اور اس پے نفع حاصل کرنا، جس دن ایڈ نہ دیکھا ہو تو نفع نہیں ملتا، اور اس میں ریفر لز کا بھی سسٹم ہے کہ دوسروں کو لنک کے ذریعے کنکٹ کر کے ان کے مطلع میں سے بھی حصہ دیا جاتا ہے، میری رہنمائی فرمائیں اس میں ایک ، دو فتوے بھی ہیں، جس میں صحیح قرار دیا ہے۔
واضح ہو کہ گوگل سے بذریعہ اشتہار کمائی کا طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے کوئی بھی شخص اپنی ویب سائٹ بنا کر اسے گوگل پر رجسٹرڈ کرواتا ہے ، پھر جب ویب سائٹ کے ویورز کی تعداد ایک معین حد تک پہنچ جاتی ہے، تو گوگل کی طرف سے اس ویب سائٹ پر اشتہار جاری کر دیے جاتے ہیں ، جس کے ویب سائٹ ویورز کی جانب سے دیکھے جانے پر گوگل کی طرف سے ویب سائٹ مالک کو ایک مخصوص رقم کی ادائیگی کی جاتی ہے، نیز گوگل کی طرف سے اس بات کی نگرانی بھی کی جاتی ہے کہ واقعۃً اس ویب سائٹ کے ویورز کی تعداد معین حد تک ہے یا نہیں ؟ اس کے لئے مخصوص مدت کے بعد گوگل کی طرف سے ویب سائٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد جانجی جاتی ہے، اگر تعداد کم ہو تو گوگل کی طرف سے اشتہارات کا سلسلہ بند کر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ویب سائٹ مالکان کو رقم کی ادائیگی بھی بند ہو جاتی ہے، اس لئے بعض لوگ ویب سائٹ بنا کر اس پر ویورز کی تعداد زیادہ دکھانے کے لئے لوگوں کو جھانسہ دیکر اپنی ویب سائٹ پر پیسوں کے عوض ان کے اکاؤنٹ بنا کر انہیں مزید ممبر بنانے اور روزانہ ایک مخصوص تعداد میں اشتہارات دیکھنے کا کہتے ہیں ، اور اس پر انہیں معاوضہ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے مقر رہ مدت تک روزانہ کی بنیاد پر اشتہارات دیکھنے کی صورت میں اکاؤنٹ بنانے والے کی جمع کردہ اصل رقم اور مزید کچھ اضافی رقم بھی موصول ہو جاتی ہے، اور اس کام کے لئے آج کل مختلف کمپنیاں وجود میں آچکی ہیں۔ (ماخوذ از کمپیوٹنگ)
اس ساری تفصیل پر غور و فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ کمپنیاں اپنے کسٹمرز کے ساتھ ’’ شرکت ‘‘ کی بنیاد پر کام نہیں کرتیں ، یہی وجہ ہے کہ اگر وہ مقررہ مدت میں اشتہارات نہ دیکھیں ،تو انہیں ان کی اصل رقم بھی واپس نہیں کی جاتی ، بلکہ ضبط کر لی جاتی ہے، اور نہ اس معاملہ کو ’’اجارہ‘‘ کے تحت داخل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اشتہارات دیکھنا کوئی ایسا عمل نہیں کہ جسے ’’ اجارہ کا معقود علیہ ‘‘ قرار دیا جاسکے، اور اس معاملہ کی کوئی اور فقہی تکییف بھی ممکن نہیں، مزید یہ کہ اس معاملہ میں غیر شرعی اور فحش اشتہارات بھی دکھائے جاتے ہیں، اور مصنوعی طریقہ سے ویورز کی تعداد بڑھا کر پیش کرنے میں دھوکہ دہی کا پہلو بھی موجود ہے ، اس کے علاوہ اس میں نیٹ ورک مارکیٹنگ کا طریقہ کار بھی اپنا یا جاتا ہے، جس میں عموماً شرعی اصول وضوابط کا خیال نہیں رکھا جاتا۔
لہٰذا اس طریقہ کار کے مطابق کام کرنے والی کسی بھی کمپنی میں اکاؤنٹ کھلوانے اور اس کے ذریعہ پیسے کمانے یا کسی اور کو اس کاروبار میں شامل کر کے کمیشن حاصل کرنے کی شرعاً اجازت نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
كما في الدر المختار: وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل اھ (6/ 4)۔
وفي فقہ البیوع للعثماني: أن كان بيع المنتج مشروطاً بان يدخل المشترى فى شبكة التسويق فهذا البيع فاسد لاشتراط ما لا يقتضيه العقد اھ (۲/812) ۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل اھ (6/ 4)۔
وفي صحيح مسلم: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال ما هذا يا صاحب الطعام ؟ قال أصابته السماء يا رسول الله قال أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس ؟ من غش فليس مني اھ (1/ 99)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0