نمازِ عید میں اگر امام رکوع میں جائے اور پھر اُٹھ جائے قیام کی طرف اور پھر رکوع میں جا کر اونچی آواز سے رکوع میں تکبیرات کہے، نماز کا کیا حکم ہے؟
اگر امام عید کی نماز میں زائد تکبیریں کہنا بھول جائے اور تکبیرات کہنے سے قبل رکوع میں چلا جائے تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ قیام کی طرف لوٹنے کے بجائے رکوع میں ہی تکبیرات ادا کر لے، دوبارہ قیام کی طرف اُٹھ کر دوسری مرتبہ رکوع کرنا درست نہیں، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ طریقہ کار درست نہیں تھا، لیکن بوجہ کثرت ہجوم سجدہ سہو نہ کرنے کے باوجود بھی ان کی نماز درست ادا ہو چکی ہے۔
ففی الدر المختار: كما لو ركع الإمام قبل أن يكبر فإن الإمام يكبر في الركوع ولا يعود إلى القيام ليكبر اھ (2/ 174)
وفی الفتاوى الهندية: وإذا نسي الإمام تكبيرات العيد حتى قرأ فإنه يكبر بعد القراءة أو في الركوع ما لم يرفع رأسه، كذا في التتارخانية. (1/ 151) واللہ أعلم بالصواب!