میرا سوال یہ ہےکہ عید کےلئے یا رمضان کےلئے کم ازکم کتنی شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے ؟ اس کی کوئی تعداد معلوم ہے ؟
واضح ہوکہ اگر مطلع بالکل صاف ہو،اور چاند دیکھنے سے کوئی بادل یا دھواں غبار وغیرہ مانع نہ ہوتو ایسی صورت میں رمضان اور عیدین کے چاند کےلئے صرف دو تین آدمیوں کی رؤیت اور شہادت قابلِ اعتماد نہیں،جب تک مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت چاند دیکھنے کی شہادت نہ دے،البتہ اگر مطلع صاف نہ ہو بادل یا دھواں غبار وغیره آسمان پر ایسا ہو جو چاند دیکھنے سے مانع ہوتو ایسی صورت میں رمضان کے چاند کےلئے ایک ثقہ اور عیدین کےلئے دو ثقہ مسلمانوں کی گواہی قابلِ اعتبار ہوتی ہے،جبکہ رمضان وعیدین کے علاوہ باقی نو مہینوں کے چاند میں خواہ ابر ہو یا مطلع صاف ہو دو مرد یا ایک مرد دو عورتوں کی شہادت کافی ہے۔
كمافي الدر:(و) لو صاموا(بقول عدل) حيث يجوز و غم هلال الفطر(لا)يحل على المذهب خلافا لمحمد كذا ذكره المصنف،لكن نقل ابن الكمال عن الذخيرة أنه إن غم هلال الفطر حل اتفاقا،وفي الزيلعي الأشبه إن غم حل وإلا لا(و)هلال (الأضحى)وبقية الأشهر التسعة(كالفطر) على المذهب اھ (2 /391) ۔
وفی الشامية:فلو شهدا في الصحو بهلال شعبان وثبت بشروط الثبوت الشرعي يثبت رمضان بعد ثلاثين يوما من شعبان وإن كان رمضان في الصحو لا يثبت بخبرهما، لأن ثبوته حينئذ ضمني ويغتفر في الضمنيات ما لا يغتفر في القصديات اھ . (2/384) ۔
وفي المبسوط:وإنما يرد الإمام شهادته إذا كانت السماء مصحية،وهو من أهل المصر فأما إذا كانت متغيمة أو جاء من خارج المصر أو كان في موضع مرتفع فإنه يقبل عندنا اھ (2/392.388) ۔
وفى الهندية:إن كان بالسماء علة فشهادة الواحد على هلال رمضان مقبولة إذا كان عدلا مسلما عاقلا بالغا حرا كان أو عبدا ذكرا كان أو أنثى الخ،وان كان بالسماء علة لا تقبل إلا شهادة رجلين أو رجل وامرأتين ويشترط فيه الحرية الخ، وإن كانت مصحیة لا يقبل إلا قول الجماعة كما في هلال رمضان اھ (1/197) ۔