السلام کے بعدسوال یہ ہےکہ اگر چچا اپنے بھتیجے پر گھریلو کام کے لیے زبردستی سے روزہ توڑنے کاحکم دے، اور بھتیجا ناراض ہوں،لیکن مجبورا کچھ کھایا پیا،تو اس صورت میں چچا کے لیے شریعت کی طرف سے کیا حکم ہے؟
(نوٹ):سائل سے رابطہ کرنے سے گھریلو کام کی کچھ تفصیل معلوم کی کہ رمضان میں چچانے اپنے بھتیجے سے کہاکہ گائیں اور بکریاں کو چرانے کے لئے باہر لے جاؤ،اس پر بھتیجے نے کہا،میر اروزہ ہے،چچانے کہاکہ میں کہہ رہا ہوں گائیں اور بکریاں چراؤ،پھر بھتیجے نے مجبورا روزہ توڑ دیا۔
مذکور بھتیجا اگر عاقل بالغ ہو،اور چچا کی طرف سے اسے فقط گھریلو کام کی ترغیب دی گئی ہو،اور وہ کام بھی اتنا سخت اور دشوار نہ ہو،جسکے ساتھ روزہ نہ رکھا جا سکتا ہو،(جیسا کہ سوال کے نوٹ میں مذکور ہے)اور اس معمولی کام کی وجہ سے بھتیجے نے روزہ توڑا ہوتو اس صورت میں بھتیجا گنہگار ہوگا،اور مذکور بھتیجے پر اس ایک روزے کی قضا کے ساتھ ساٹھ روزے کفارے کے بھی لازم ہونگے۔
كما في الهندية: فالصائم إذا أكل الخبز أو الأطعمة أو الأشربة أو الأدهان أو الألبان أو أكل إهليلجة أو مسكا أو زعفرانا أو كافورا أو غالية عليه القضا والكفارة عندنا هكذا في فتاوى قاضي خان اھ (1/205) ۔
وفي شرح صحيح مسلم: الذي يسن خيراً له نصيب ممن اقتدى به،لأنه سبب ذلك، وهو الذي سن الخير، والذي يسن شراً لا بد أن له نصيباً من هذا الشر.لأنه أول من أحدث الشر. وقال عليه الصلاة والسلام: الدال على الخير كفاعله، والدال على الشركفاعله،وإن لم يفعل , لأن الدلالة على الشرقامت مقام الفعل اھ (4/40)
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0