پر پال ایک کمپنی ہے جس میں ہم پیسے انویسٹ کرتے ہیں اور ایک لاکھ روپے پر روزانہ کبھی 490 اور کبھی پانچ سو یعنی کبھی کم زیادہ دیتے ہیں اور روزانہ فی ایڈ بھی ہم دیکھتے ہیں تو ایسی کمائی کیسی ہے؟ میں ابھی مدرسے کا طالب علم ہوں لکی مروت دارالعلوم اسلامیہ کا. خامسہ درجہ ہے www.PRPAL.com.pk یہ کمپنی کا ویب سائٹ ہے۔
کمپنی کا اصل کاروبار جس کے لئے وہ لوگوں کو ممبر بننے کی دعوت دیتی ہے وہ ایڈز دیکھ کر کمائی کرنا ہے (چاہے ممبر شپ انویسٹمنٹ میں ہو یا نیٹ ورک مارکیٹنگ میں ہو)، جس میں شرعی اعتبار سے کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں :
۱۔ ایڈز دیکھنا کوئی ایسا عمل نہیں، جسے اجارہ کا معقود علیہ قرار دیا جا سکے ، اور ایڈ ز دیکھنے والے ممبر کو اس پر اجرت کا مستحق ٹھہرایا جا سکے۔
۲۔ بہت سے اشتہارات غیر شرعی امور پر بھی مشتمل ہوتے ہیں۔
۳۔ مصنوعی طریقہ سے ویورز کی تعداد کو بڑھا کر دکھایا جاتا ہے جو کہ دھوکہ دہی کے زمرہ میں آتا ہے۔
۴۔ مذکور کمپنی کے ساتھ کاروبار کی خرابی اور بھی بڑھ جاتی ہے جبکہ اس میں نیٹ ورک مارکیٹنگ بھی پائی جاتی ہو۔ لہذا خود اس کمپنی کا ممبر بننے اور کسی دوسرے کو اس کا ممبر بننے کی دعوت دینے سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدر المختار: (هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية وسيجيء اھ (6/ 4)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل. (6/ 4)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح. (6/ 59)
و في فقه البیوع: إن کان بیع المنتج مشروطا بأن یدخل المشتری فی شبكة التسویق، فهذا البیع فاسد، لإشتراط مالا یقتضیه العقد اھ (۲/ ۸۱۲)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0