شوہر کی دوبار طلاقوں کے بعد اب کیا حکم ہو گا ؟ میری پوزیشن کیا ہو گی ، اور تین طلاقیں پہلے دیں، پھر حلالہ کروایا، بیٹا بھی پیدا ہوا ہے، بارہ سال سے لڑتا ہی رہتا ہے، برائے مہربانی اس کے بارے میں جواب دیں، یہ سارا دن لڑتا ہی رہتا ہے ، اور اب میں اس کی مار برداشت نہیں کر سکتی مجھے تیسری طلاق مل جائے اور میری جان آزاد ہو جائے۔
سائلہ کے شوہر نے اگر صریح الفاظ طلاق کے ساتھ واقعۃًً دو ہی طلاقیں دی ہوں ،تو اس سے دو طلاق رجعی واقع ہو چکی ہیں، جس کا حکم یہ ہے کہ عدت کے دوران شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، تاہم اگر شوہر نے رجوع نہ کیا اور عدت گزر گئی تو عدت گزر جانے کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی جبکہ سابقہ شوہر کے ساتھ دو بارہ میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنے کے لئے باہمی رضامندی سے ایجاب و قبول اور نئے حق مہر کے ساتھ باقاعدہ تجدید ِ نکاح لازم ہو گا، سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست ہو تو شوہر کا بلا وجہ مار پیٹ کرنااور سائلہ کو پریشان کرنا انتہائی ظلم اور شرعاً نا جائز عمل ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے ، اس کو اپنے اس رویہ سے اجتناب کرنا اور بیوی سے معافی مانگ کر اللہ تعالی کے حضور توبہ واستغفار لازم ہے۔
كما قال الله تعالى : وعاشروھن بالمعروف فان كرهتموهن فعسى أن تكرهو شيئا ویجعل اللہ فيه خيراً كثيراً (سورة النساء)
في مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «استوصوا بالنساء خيرا فانهن خلقن من ضلع وان أعوج شيء في الضلع أعلاه فإن ذهبت تقيمه كسرته وان تركته لم يزل أعوج فاستوصوا بالنساء» (صفحه ۲۸۰) ۔
وفيه ايضاً : و عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : خيركم خيركم لأهله وانا خيركم لأهلي واذا مات صاحبكم فدعوه، رواه الترمذي (381)
وفي رد المحتار: تحت ( قول و ما بمعناها من الصريح ) أي مثل ما سيذكره من نحو كوني طالقا واطلقي وما مطلقة بالتشديد وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر اھ (2/248)۔
وفي الدر المختار: كررلفظ الطلاق وقع الكل وإن نوى اھ (3/132)۔