محترم جناب مفتی صاحب!
میں پلاسٹک اور ادویات درآمد کا کام کرتا ہوں،آپ بتائیں کہ اس میں کونسی صورت صحیح ہے ،چالان دیکر یا قیمت کی بنیاد پر رقم سپرد کر کے ؟ آپ کی معلومات کے لئے درجِ ذیل امور سے آگاہ کرتا ہوں۔
1:بائع اور درآمد کرنے والے کے درمیان کا معاملہ ہے، اور بیچ میں ایک ایجنٹ بھی ہوتا ہے، (درآمد کنندہ اور ایجنٹ دونوں مسلمان جبکہ بائع جو بھی ہو سکتا ہے ) ۔
۲:بائع ایجنٹ کے واسطہ سے یا بلا واسطہ درآمد کنندہ کو مثلاً 1200 mt کی قیمت بتاتا ہے۔
۳:درآمد کنندہ اسی قیمت پر راضی ہوتا ہے لیکن تینوں اس پر بھی راضی ہوتے ہیں کہ چالان 1000 ہو جو (یعنی بقایا) ایکسچینج کمپنی بینک کے ذریعہ یا ایجنٹ کو شپمنٹ سے قبل ادا کی جائے گی،(یہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ حکومت کو کسٹم ڈیوٹی 200 ایم ٹی کے حساب سے ادا کیے بغیر خرچہ جو کم کیا جائے) ۔
۴:جب بائع کو پوری رقم وصول ہو تب وہ شپمنٹ (مال) کا بندوبست کرتا ہے ۔ اب جب معاملہ واضح طور پر تین افراد کے مابین ہوتا ہے تو آیا اس میں شرعی نقطۂ نظر سے کوئی خرابی تو نہیں ؟ درآمد کنندہ اور ایجنٹ کے لئے؟
مذکور طریقہ سے تین افراد کےدرمیان معاملہ ہونے میں حرج نہیں، مگر دھوکہ دہی کے ذریعے حکومت یا کسی فرد کا حق مارنا جس احتراز لازم ہے۔
کمافی مشكاة المصابيح: وعن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ملعون من ضار مؤمنا أو مكر به» . رواه الترمذي (3/ 1402)۔
وفی مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى (2/ 889) -
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0