کاروبار

معلوماتی ویب سائٹ بنا کر اس پر فیس لینا اور ممبرشپ پر کمپنی کی طرف سے ملنے والی مدد بونس کا حکم

فتوی نمبر :
38960
| تاریخ :
معاملات / مالی معاوضات / کاروبار

معلوماتی ویب سائٹ بنا کر اس پر فیس لینا اور ممبرشپ پر کمپنی کی طرف سے ملنے والی مدد بونس کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے کچھ ساتھی مل کر ہماری ٹیم ایک ویب سائٹ بنانا چاہ رہی ہے، جس کے ذریعہ لوگوں کو معلومات بھی فراہم ہو اور ایک دوسرے کی فتوی کی روشنی میں جائز طرح سے مدد بھی ہو؟ جس میں بزنس کے متعلق اہم اور نایاب کتابیں رکھی جائیں ؟ جس کو پڑھنے کے لئے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے ہماری لائبریری کی ممبر شپ فیس ادا کر کے لینی پڑے؟ فیس ادا کرنے کے بعد اس کو آئی ڈی پاسورڈ مل جائے گا؟ اب وہ لاگ ان ہو کر ان کتابوں سے استفادہ کر سکے گا؟ اس سائٹ پر ہمارے کچھ لاکھ روپے بھی شروع میں خرچ آجائیں گے اور مزید بعد میں بھی خرچ لگتا رہے گا؟ ممبرز بڑھانے کے لئے اور لوگوں کی ایک دوسرے کی مدد کے لئے اس فیس سے ممبرز کی مدد بھی کی جائے گی ، وہ اس طرح کہ ممبرز جس بھی دوست کو جوائن کر واکر نیا ممبر بنوائے گا ،اس کو کمپنی بونس مدد دے گی؟ ہر ممبر زیادہ سے زیادہ پانچ دوستوں کو ممبر بنوانے کے لئے جوائن کروا سکے گا؟ چاہے پانچ سے کم جوائن کر وائے، چاہے ایک بھی جوائن نہ کروائے ؟ زید نے بکر کو جوائن کروایا تو کمپنی زید کو مدد بونس دے گی لیکن بکر جن دوستوں کو جوائن کروائے گا اس کا بونس صرف بکر کو ملے گا اور زید کو کچھ بھی نہ ملے گا؟ کیا اس طرح ممبرز کو مدد بونس دینا جائز ہے ؟ ہم نے آپس میں مشورہ کر کے مکمل ترتیب دے دی ہے ؟ اب پہلے فتوی چاہیئے کہ اگر اس طرح جائز ہے تو ہم کام شروع کر دیں ورنہ چھوڑ دیں گے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ویب سائٹ بنانے اور اس کی ممبر شپ کا جو طریقہ کار درج ہے، وہ اگر چہ بظاہر درست معلوم ہوتا ہے ، مگر سائل نے اس کی جو ترتیب بنائی ہے، اگر اس کی مزید وضاحت لکھ کر براہ راست دکھائی جائے، تو اس سلسلہ میں کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في تكملة فتح الملھم: واما التلفزيون والفديون فلاشك في حرمة استعمالها بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعة والمجون والكشف عن النساء المتبرجات أو العاريات وما إلى ذلك من اسباب الفسوق اھ (۴/ ۱۶۴) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 38960کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ڈراپ شپنگ کا حکم - is Drop Shiping Halal in Islam

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 3
  • پرپال آن لائن کمپنی کا شرعی حکم - PrPal Earning in Islam

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • فاریکس کا کاروبار کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 1
  • ایڈورٹائزمنٹ کمپنی میں انوسٹمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 1
  • گوہرشاہی والوں کی پروڈکٹ کی خریدفروخت

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر ٹیکسی چلانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 0
  • StreamKar ایپ پر لائیوآنے اورکمائی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 1
  • کاروبار کی نیت سے پرندوں کی خرید و فروخت اور بریڈنگ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 1
  • سردی میں خریدے ہوئے پنکھے گرمی میں مہنگے داموں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • ویڈیوگیمزکی آمدنی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 0
  • حرام مال سے کاروبار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • پے رول( payroll financing ) فائنانسنگ کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • الیکٹرونکس آلات ٹی وی،ایل سی ڈٰی وغیرہ بیچنے کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • قسطوں پر خرید و فروخت کا درست طریقہ کار

    یونیکوڈ   کاروبار 1
  • آن لائن اپلیکیشن(IDA App)کے ذریعے کاروبار کرکے پیسے کمانا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • حکیم کا انگریزی دوا پیس کر مریض کو دینا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • بائنانس ایپ کے ذریعہ کاروبار کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • قادیانی کو کپڑے فروخت کرنا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج کے ذریعہ ، شیئرز کی خرید و فروخت

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • مروّجہ اسلامی بینکوں کے ساتھ معاملات کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • سگریٹ اور نسوار کاکا روبارکرنا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • بیع عینہ کی تعریف اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • کرپٹو کرنسی میں فیوچر ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • تکافل اور انشورنس میں فرق

    یونیکوڈ   کاروبار 0
Related Topics متعلقه موضوعات