ریاض سعودی عرب سے کچھ لوگ حکومت کی اجازت کے بغیر حج کے لیے گئے تھے ، 8 ذو الحجہ کو مکہ سے احرام باندھ کر منی روانہ ہوئے ، راستے میں پولیس والوں نے پکڑ کر واپس ریاض بھیج دیا،حج کا کوئی رکن بھی ادا نہ کر سکے، ان لوگوں کے لیے کیا حکم ہے ؟ بعض لوگوں کا حج فرض تھا اور بعض کا نفلی ؟
واضح ہو کہ بغیر اجازت کے حج پر جانا سعودی قانون کے خلاف ورزی ہونے کی وجہ سے گناہ ہے۔ تاہم حج کا احرام باندھنے اور تلبیہ پڑھنے کے بعد جب پولیس نے حج سے روک دیا، تو اب احرام سے نکلنے کے لئے ان اشخاص پر لازم ہے کہ کسی کے ذریعے سے ہدی حرم بھیج دیں یا اس کی قیمت کسی شخص کو دے دیں جو وہاں اس سے ہدی خرید کر کسی متعین تاریخ کو ذبح کردے، تو اس سے وہ اس ذبح کے بعد حلال ہو جائیں گے۔ چنانچہ اس حالت میں جو جنایت کا ارتکاب ہوا تھا اس کے لئے دم بھی لازم ہو گا۔ جبکہ جتنے اشخاص حج کی نیت سے نکلے تھے خواہ حج فرض ہو یا نفل ان تمام پر دوبارہ حج کی قضا کرنا بھی لازم ہے۔
کما فی الہندیة : (وأما حكم الإحصار) فهو أن يبعث بالهدي أو بثمنه ليشتري به هديا ويذبح عنه وما لم يذبح؛ لا يحل وهو قول عامة العلماء سواء شرط عند الإحرام الإهلال بغير ذبح عند الإحصار أو لم يشترط، ويجب أن يواعد يوما معلوما يذبح عنه فيحل بعد الذبح ولا يحل قبله حتى لو فعل شيئا من محظورات الإحرام قبل ذبح الهدي يجب عليه ما يجب على المحرم (1/255)۔
و فی الدر المختار : (و) يجب (عليه إن حل من حجه) ولو نفلا (حجة) بالشروع (وعمرة) للتحلل إن لم يحج من عامه(وعلى المعتمر عمرة، و) على (القارن حجة وعمرتان) إحداهما للتحلل اھ (2/592)۔